تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 231
تماشہ دیکھنے جا رہا ہوں تعطیلات ہیں، لاہور نہ سہی قادیان کہی۔اتنے میں روانگی کی سیٹی بھی اور ہم مدار ہو گئے۔ویر کا ریلوے سٹیشن تبدیلی کے لئے اترنا پڑا۔پلیٹ فارم پر ، احمدی خاندانوں کے خاندان اتر پڑے پلیٹ فارم سوٹ کیسوں، رنگوں اور بستروں سے پٹ گیا۔اس منظر نے ایک عجیب غریب اثر میر سے دل پر کیا۔مجھے ایسا معلوم ہوا کہ صدیوں کی سوئی ہوئی کوئی چیز میرے رگ پنے میں بھاگ رہی ہے۔مرد عورتیں اور بچے ، بچے کچھ ماؤں کی گودوں میں، اور کچھ نھنے تھے قدم اُٹھاتے ہوئے ، انگلیاں پکڑے، اس سردی کے موسم میں ، کنبوں کے کتبے ، گھروں کو تالے لگا کہ کس شوق و ذوق سے آمادہ سفر میں پختگی اعتقاد کا ایک مقدس پہاڑ میری نگاہوں میں بلند ہو رہا تھا۔مرد، عورتیں اور بیچتے ، ماؤں کی گودوں میں ہمکتے ہوئے بیچتے چلتے پھرتے بچے ، سب میری آنکھوں میں چکا چوند پیدا کر رہے تھے میں ایک ہی دنیا میں چلا گیا۔ایسی دنیا میں جو گذشتہ دنیا سے پاکیزہ تو اور ارفع و اعلیٰ تھی جو مقدس اعتقاد کی دنیا ہے جہاں سو صفائی قلب اور جذب روحانی کے اور کچھ نہیں۔یہ اثر تھا جو میری روح پہ ہوا۔یہ پہلا اثر تھا اس نے زیارت قادیان کا جوش پوری طاقت کے ساتھ میرے دل میں پیدا کر دیا۔انتظار کی گھڑیاں مجھے قیامت کی صدیاں معلوم ہونے لگیں۔بخدا خدا کر کے ہماری گاڑی آپہنچی اور میں بڑے اشتیاق کے ساتھ سوار ہوا۔اگرچہ گاڑی میں اس قدر بھیڑ تھی کہ بہت سے لوگوں کو کھڑے ہونے کے لئے بھی جگہ میسر نہ تھی اور مسافر سخت تنگی میں تھے مگر مجھے اشتیاق قادیان کی وجہ سے اس کھچا کھچی میں بھی ایک تکلف آنها تقصد اور میں اپنے آپ کے جنت میں بیٹھا ہوا تصور کرتا تھا۔گو گاڑی کی رفتار مجھے شست معلوم ہوتی تھی۔میں چاہتا تھا کہ میری روح اور رسم کی تمام طاقت بھی انجمن کی قوت کے ساتھ مل بھائے اور گاڑی فور قادیان پہنچ جائے۔غروب آفتاب کے وقت آخہ گاڑی قادیان کے سٹیشن پر بھا کھڑی ہوئی سٹیشن پر اتنا انہوں تھا کہ کھوے سے کھوا چھلتا تھا۔یہ ابھی پہلا روز تھا پلیس تاریخ کوشید۔کا آغاز ہونا تھا۔ایک حشر تھا کہ بپا ہو گیا تھا۔تقدس کا ایک سمندر تھا کہ ٹھاٹھیں مار رہا تھا اور میں اس کی موجوں کی آغوش میں پہچکولے کھا رہا تھا جس مکان میں ہم ٹھہرے وہ محلہ دار البرکات میں واقع تھا۔محلوں کے نام سُنے تو ایسا نہیں ہوتا تھا کہ ہم خلد بریں میں آگئے ہیں۔معرت و تکریم کی لہر میری رگ رگ میں دوڑ گئی اور ایک روحانی بارش میری روح پر برس رہی تھی۔ایک بیرونی کمرے میں ہم اُترے۔نیچے کماد کا پھل کا بچھا تھا سردی کا موسم تھا۔نرم گریلوں میں یہ لطف کہاں۔آرام و تعیش پر موت وارد ہو چکی تھی سوا تسکین کے اور کوئی بات ہی نہ تھی لنگر سے کھانا منگوایا۔کھایا اورسو ہے۔صبح اٹھ کر بازار سے ہوتے ہوئے بہشتی مقبرہ کی زیارت کی قبروں کی قطاریں زندہ انسانوں کی صفیں معلوم