تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 232
۲۲۳ ہوتی تھیں۔مردوں کی پاک نفسی قبروں کے گوشوں سے نکل نکل کر میری روح سے ہم آغوش ہو گئی۔تو بتوں کی سادگی نہایت سیاذب نظر تھی۔زندہ مردوں کی ایک دنیا ! ایسے مردے کو تین کے سامنے مجھے علی سازنده ایک مردہ معلوم ہوتا۔یہ ان عقیدت کیش لوگوں کی آخری آرام گاہ۔ہے جنہوں نے اپنا تن ، من ، دھن اسلام کے نام پہ قربان کر دیا۔پاک نسوں کا اتنابڑا جو گھٹا شاید ہی کسی اور جگہ دیکھنے میں آئے بے اختیار میرے ہاتھ فاتحہ کے لئے اُٹھ گئے اور میری روح ان مٹی کی پاک قبروں کے ساتھ لپٹ گئی۔بعد با ہم اس چاردیواری میں داخل ہوئے یہاں سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والست نام کا مزانہ مقدس ہے۔سادگی پر ہزاروں بنائیں قربان ہو رہی تھیں۔ناک کے ذرے ذرے سے صداقت کی آواز اٹھ رہی تھی۔یہ قبر اس انسان کی تھی جس نے اپنے مسیحائی کے دعوے کی وجہ سے لاکھوں کروڑوں انسانوں کے ساتھ عمر بھر نبرد آزمائی کی جس کی تکفیر کے فتو سے لکھے گئے جس پر عیاذ باللہ صرف عیاشی کے ہی اتہام نہ لگائے گئے بلکہ نہیں کو قتل کی دھمکیاں بھی دی گئیں اور جس کی اہانت کرنے کے لئے کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہ کیا گیا۔گورندرا نے اس کو ہر ایک گزند سے بچایا۔وہی انسان آج اس سادہ سے اور تہی از تکلف مزار کی آغوش میں جاودانی نیند پڑا سو رہا ہے۔اس مٹی کی ڈھیری نے میرے دل میں ایمان کا شعلہ بھڑکا دیا اور میں ایک مضطرب بجان لے کر وہاں سے لوٹا۔بعد دو پہر حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی باتیں انجمن خدام احمدیہ کے جلسہ میں نہیں۔اس گرانمایہ شخصیت کے متعلق جتنے شکوک میں اپنے دل میں لے کر آیا تھا تمام کے تمام اس طرح میٹ گئے کہ گویا کبھی پیدا ہی نہیں ہوئے تھے۔اتنا سادہ اور پُر زور کلام میں نے پہلے کبھی نہیں سنا۔تقریر میں کوئی دقیق مسائل نہیں بیان کئے گئے تھے۔سادہ روز مرہ کی باتیں تھیں۔مگر انہی سادہ باتوں میں خدا جانے کہاں کی جاذبیت تھی کہ میں نے ایک ایک لفظ ہمہ تن گوش ہو کر سنا۔اور اپنے آپ کو زندہ سے زندہ تر پایا۔دوران جلسہ میں حضور کی دیگر تقاریر بھی سنیں جو اپنی سادگی ، برجستگی ، اور تاثیر کے لحاظ سے ہمیشل تھیں۔باوجود ان تاثرات کے میں پکا غیر احمدی رہا اور مورخہ ۲۹ دسمبر اثر کو صبح کی گاڑی قادیان سے رخصت ہو کر گھر کو روانہ ہوا۔میرے ہمراہ اور بھی بہت سے لوگ اس گاڑی پر واپس ہو رہے تھے جو عموماً احمدی تھے میرے ڈبے میں ایک شخص کے پاس چند کتب تھیں جو وہ قادیان سے خرید کر لایا تھا۔میں نے دفع الوقتی کے لئے ایک کتاب اُن میں سے اُٹھالی اور پڑھنے لگا۔یہ کتاب حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کی تقریر انقلاب حقیقی" تھی۔اس تقریر کے ختم کرنے تک میں