تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 225
۲۱۸ خدا کو ایک مانتے ہیں۔آریوں کی طرح صرف دعوئی ہی نہیں بلکہ روح و مادہ کو پیدا کرنے والا مان کر اس کی حقیقی توحید کے قائل ہیں۔پھر یہ کہ ہم زندہ خدا کو ماننے والے ہیں۔اس کو کامل صفات والا مانتے ہیں۔ایسی تعلیم دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں جس پر ہر انسان عمل کر سکتا ہے۔ایسی الہامی کتاب ماننے کی دعوت دیتے ہیں جس کی زبان زندہ اور جو ہر ضروری دعوی خود کرتی اور خود ہی اس کے دلائل دیتی ہے وغیرہ۔آپ نے ہر بات کے لئے قرآن مجید سے ثبوت دیا اور ساتھ ساتھ آریوں کے پرمیشور اور دیدوں کا اور ویدک تعلیم کا نہایت موثر طریق سے مقابلہ کیا۔آرید مناظر نے کھڑے ہوتے ہی کہا کہ یہ مناظرہ مسلمانوں سے نہیں بلکہ احمدیوں سے ہے۔اس لئے میں بیان کردہ امور کی بجائے حضرت مرزا صاحب علیہ السلام) کی باتیں پیش کرتا ہوں۔اس کے بعد اُس نے حضرت مسیح موعود علیہ اسلام پر اعتراضات کئے اور بعد کی تقریروں میں بھی پیشگوئیوں اور الہامات وغیرہ پر اعتراض کرتا رہا۔عارف صاحب نے جواب میں ستیارتھ پرکاش کے دو چار حوالے پڑھ کر جن میں اسلام پر گندے اعتراضات کئے گئے ہیں بتایا کہ آریہ سماج کے مقابلہ میں سب مسلمان ایک ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیشک مامور ہونے کا دعوی کیا اور اپنا ماننا ضروری قرار دیا۔لیکن آپ کی بعثت کی غرض تو اسلام کی حقانیت کو ثابت کرنا تھی۔پھر پیشگوئیوں اور الہامات پر اعتراضات کے مدلل جواب دیئے۔بعد کی تقریروں میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کو اسلام کا نمائند ثابت کیا اور پنڈت لیکھرام کی پیشگوئی اور مقابلہ کا وضاحت سے ذکر کر کے اسلام کی افضلیت ثابت کی۔آریہ مناظر نے ہر ممکن کوشش کی کہ مسلمانوں کو جماعت احمدیہ کے خلاف بھڑکائے لیکن احمدی مناظر ایسی عمدگی سے جواب دیتا رہا کہ آریہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے۔بلکہ دوران مناظرہ میں جب لبعض آریہ ہمارے مناظر کے ناقابل تردید مطالبات اور اپنے پنڈت کی کمزوری کو محسوس کرتے ہوئے بول پڑے تو مسلمانوں نے نہایت سختی سے ان کا مقابلہ کیا۔احمدی مناظر نے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے اپنے بیان کردہ اصول کو بھی بار بار دہرا کہ پنڈت شانتی پرکاش صاحب کو چیلنج کیا کہ ان کے مقابلہ میں ویدک اصول کی کمزوری کا جواب دیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات پر اعتراض کا جواب دے کر ویدوں کے چالیس پچاس بے معنی منتر پیش کر کے بار بار پوچھا کہ کیا یہی وہ کامل الہی کتاب ہے جس کے قبول کرنے کی دعوت آپ مسلمانوں کو دیتے ہیں اور خواب دیکھا کرتے ہیں کہ اوم کا جھنڈا مکہ اور مدینہ میں بھی گاڑا جائے گا۔لیکن آریہ مناظر، آخر دم تک ان مطالبات کا کوئی جواب نہ دے سکا۔آخری تقریرہ میں عارف صاحب نے نہایت احسن پیرایہ میں تبلیغ کی اور آریوں کو مخاطب کر کے کہا کہ مذہب کوئی کھیل تماشا نہیں جو باتیں ہم نے پیش کی ہیں اُن پر ٹھنڈے دل سے غور کریں بخدا تعالیٰ کے فضل سے مناظرہ بہت کامیاب رہا۔آریہ مناظر نے ہر چند کوشش