تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 216
۲۰۹ گئے۔میں نے کہا میں اسلام کی تعلیم کے مطابق گالیوں کا جواب گالی سے نہیں دوں گا اور نہ ہی میں اس پر دوسرے انگریزوں کو قیاس کر سکتا ہوں کیونکہ میں نے بہت سے چھوٹے اور بڑوں سے گفتگوئیں کی ہیں لیکن میں نے انہیں نہایت مستین اور شریف پایا۔معلوم ہوتا ہے۔اس نے ایسے امول میں پرورش پائی ہے جس قسم کے اخلاق کا اُس نے مظاہرہ کیا ہے۔میں نے اپنی آخری تقریر میں کہا کہ اسلام سے پہلے یہود نے اس عقیدہ کی بناء پر کہ مسیح مصلوب ہو گئے انہیں لعنتی اور مفتری قرار دیا اور عیسائیوں نے بھی جیسا کہ پولوس نے کہا اُسے ملعون تسلیم کیا چنانچہ مناظر نے بھی اقرار کیا کہ اُن کی مخاط الملعون ہوا۔لیکن انہوں نے طمعون پر غور نہیں کیا۔ایک انسان ملعون اس وقت کہلاتا ہے جب اس کا خدا سے معلمی یا اس سطح ہو جائے اور وہ اپنے اقوال و اعمال میں شیطان کی مانند ہو جائے۔اسی لئے شیطان کا نام ملعون ہے اور ایک ملعون شخص دوسرے کو لعنت سے کیونکر بچا سکتا ہے۔کیا اندھا اندھے کی راہنمائی کر سکتا ہے۔پس یہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کا احسان تھا کہ آپ کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے مسیح علیہ السلام کو اس لعنت کے داغ سے بری قرار دیا اور فرمایا وہ صلیب پر نہیں بلکہ طبعی موت سے مرے اور ہماری تحقیقات کی رو سے صلیب سے بیچ کر کشمیر میں آئے اور وہیں وفات پائی چنانچہ ان کی قبرمحلہ خانیار سرینگر کشمیر میں موجود ہے۔اس نے اپنی تقریر میں چونکہ یہ بھی کہا تھا۔کہ انا جیل میں لکھا ہے میسج نے اپنی بھان دے دی۔اس کا میں نے تفصیل سے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اناجیل میں ایسے اختلات موجود ہیں جن کے درمیان مطابقت نہیں دی جا سکتی اور یقینی طور پر بعض بیانات غلط ہیں۔اس لئے میں اپنے مد مقابل کو چیلنج دیتا ہوں کہ وہ آئندہ ۱۴ اگست کو اختلافات انا بیل پر مجھ سے مباحثہ کر لے۔لیکن اس چیلینج کا اس نے کوئی جواب نہ دیا۔پبلک پر اچھا اثر ہوا۔کئی حاضرین نے مجھ سے کہا کہ آپ کے دلائل زیر دست تھے اور اس کی سخت کلامی کی مذمت کی۔۴ار اگست کو میں نے انھیں سے اختلافات پیش کئے جن پر بعض نے سوالات کئے بین کے میں نے جوابات دیئے۔ایک اختلاف میں نے یہ پیش کیا تھا کہ مسیح نے جب اپنے بارہ شاگردوں کو تبلیغ کے لئے بھیجنا چاہا تو بعض ہدایات دیں۔متی کہتا ہے کہ اس نے یہ ہدایت بھی دی کہ وہ اپنے ساتھ سونٹا نہ لیں لیکن مرقس کہتا ہے کہ اس نے یہ ہدایت دی تھی کہ وہ سوائے سونٹے کے اور کچھ نہ لیں۔یہ ایک صریح تناقض ہے جو کسی طرح نہیں اُٹھ سکتا۔ہر ایک عقلمند یہی کہے گا کہ دونوں