تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 171 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 171

بھائیں اور دونوں ان پر لکھ دیں کہ آج بھی ہمارے عقائد یہی ہیں۔اس کے بعد دنیا خود فیصلہ کریگی کہ اُس زمانہ میں میرے عقائدہ اور تھے یا مولوی محمد علی صاحب کے ؟ اگر یہ ثابت ہو بھائے گا کہ اور وہ میں نے اب اپنے عقائد بگاڑ لئے ہیں تو میرا اثر جاتا رہے گا اور اگر یہ ثابت ہوگا کہ اُن کے عقائد اُس زمانہ میں اور تھے تو اُن کے ساتھیوں کے لئے یہ بات ہدایت کا موجب ہو جائے گی یہ سمجھے بجائیں گے کہ مولوی محمد علی صاحب کے زمانہ صحابیت کے عقائد اور تھے اور آج اور ہیں یہ نہایت آسان طریق ہے اور بہترین طریق ہے۔اگر وہ اس پر متفق ہوں تو فیصلہ نہایت آسان ہو جاتا ہے۔یہ ایک ایسا مباحثہ ہو گا جو گویا حضرت مسیح موعود علیہ نصلوۃ والسلام کی شہادت ساتھ رکھتا ہوگا۔نے اس کے علاوہ حضور نے فیصلہ کے پھارہ اور طریق بھی رکھے جو حضور ہی کے الفاظ میں درج ذیل کئے جاتے ہیں :۔فیصلہ کا پہلا طریق پہلا طریق فیصلہ کا میرے نزدیک یہ ہے کہ نبوت کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود ہی غلطیوں کا ازالہ فرما دیا ہے۔یعنی ایک غلطی کا ازالہ لکھ کر ان غلطیوں کو دور فرمایا ہے جو اس بارہ میں اپنواں کی گانوں کو لگ رہی تھیں۔میں تجویز کرتا ہوں کہ آئندہ دونوں فریق نبوت کے متعلق بحث مباحثہ کو بالکل بند کر دیں اور صرف یہ کیا بجائے کہ میری طرف سے اور آپ کی ضرورت سے دو چار سطر میں یہ مضمون لکھ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوی کے متعلق ہمارا مذہب وہی ہے جو اس اشتہار میں درج ہے۔تمام لوگ اسی کو ہمارا مذہب تصویر فرمائیں اور اس کے خلاف اگر ہماری کوئی تحریرہ ہو تو اسے غلط سمجھیں اور ہم دونوں کی اس تحریر کے بعد ایک غلطی کا ازالہ " اشتہار بغیر کسی معاشیہ کے شائع کر دیا جائے اور ہر سال کم سے کم پچاس ہزارہ کاپی اس اشتہار کی ملک میں تقسیم کر دی جائے۔پا خرچ اس کا ہم دیں گے اور ہم اس کا خرچ مولوی صاحب اور ان کے رفقاء دیں۔اس کے بعد دونوں فریق کے لئے بجائزہ نہ ہوگا کہ اپنی طرف سے کوئی اور مضمون اپنے اخباروں یا رسالوں یا ٹریکیوں میں لکھیں بلکہ جو اس امر کے متعلق سوال کرے اُسے اشتہار کی ایک کاپی دے دی جائے کیونکہ اس میں خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے غلطیوں ازالہ کر دیا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر پانچ سال تک بھی دونوں فریق اس پیمہ کاربند رہیں تو نزاع بہت " " الفصل ۲۴ و فا/ جولائی سه صفر ۰۵۰۴۔