تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 172
۱۶۵ کچھ کم ہو جائے گا اور شاید اس عرصہ میں اللہ تعالیٰ مزید مسلح کے راستے کھول دے فیصلہ کا دوسرا طریق دو سرا طریق فیصلہ کا میں یہ تجویز کرتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ اسلام نے صاف لکھا ہے کہ خدا تعالے کی اصطلاح میں چشمہ معرفت ص۳۲۵) قرآن کریم کی اصطلاح میں (ایک غلطی کا ازالہ) اسلام کی اصطلاح میں زلیکچر سیالکوٹ صفحه ۱۷-۱۸ نیز الحکم ۶ مئی حسن شاہ) سابق انبیاء کی اصطلاح میں ( الوصیبتہ صفحہ ۱۲) اور خدا تعالیٰ کے حکم سے میرے نزدیک دستم حقیقۃ الوحی صفحہ ۲۸) اور لغت کی اصطلاح میں (مکتوب مندرجہ اخبار عام ۲۶ مٹی مسلہ نبی اُسے کہتے ہیں جس پر کثرت سے امور غیبیہ ظاہر کئے جائیں اور اس کو شرف مکالمہ و مخاطیہ حاصل ہو اور یہ کہ ان معنوں کے رُو سے حضرت مسیح موعود علیہ السّلام نبی ہیں اور کسی معنوں میں نہیں۔پس ایک اشتہار ہم دونوں کے دستخط سے ملک میں شائع کر دیا جائے کہ ہم دونوں فریق اس امر کا اعلان کرتے ہیں کہ ہم حضرت مسیح موعود علی اسلام کو شر مند افعالے کی اصطلاح کے مطابق ، اسلام کی اعلان کے مطابق سابق انبیا کی اصطلاح کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خدا تعالیٰ نے جو حکم دیا تھا اس کے مطابق اور عربی اور عبرانی لغتوں کے مطابق نبی سمجھتے ہیں۔اس کے سوا کسی اور تعریف کے مطابق نبی نہیں سمجھتے بلکہ دوسری اصطلاحوں کے مطابق ہم صروف ا متعارہ آپ کے لئے نبی کے لفظ کا استعمال جائز سمجھتے ہیں حقیقی طور پر نہیں " فیصلہ کا تیسرا طریق ” اگر الحکم کے حوالہ ( مارا گست ملٹری کی وجہ سے باوجود کچھ سیالکوٹ کے توالد کے اور الحکم کی ڈائری دور نئی مسلہ کے آپ کو ایسی تحر یہ پر دستخط کرنے پر اعتراض ہو تو میری تیسری تجویز یہ ہے کہ آپ ایک اشتہار اس مضمون کا دے دیں کہ میں صرف اللہ تعالے کی اصطلاح کے مطابق قرآن کریم کی اصطلات کے مطابق سابق انبیاء کی اصطلاح کے مطابق اور اس حکم کے مطابق جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے دیا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نہی سمجھتا ہوں۔باقی اسلام کی اصطلاح کے رو سے میں آپ کو حقیقی نبی نہیں سمجھتا۔اس اصطلاح کے رو سے آپ کو صرف مجازی نبی یقین کرتا ہوں۔میں امید کرتا ہوں کہ اگر آپ ایسا اشتہار دے دیں گے تو اس سے بھی دنیا کو بہت کچھ اس مسئلہ کے سمجھنے میں سہولت ہو جائے گی۔" فیصلہ کا چوتھا طریق فیصلہ کا چوتھا طریق یہ ہے کہ آپ ایک اشتہار اس مضمون کا دے دیں کہ