تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 170
۱۶۳ میں عجلت کی بیعت کا فارم بھیج کر میں دعاؤں میں لگ گیا کہ میری بیعت کے قبول ہونے میں کچھ رکاوٹیں ہوں تو اللہ تعالے اُن کو دُور فرمائے۔میرا اندیشہ غلط نہ نکلا۔میری بیعت قبول کرنے سے پہلے حضور خلیفہ صاحب نے دریافت فرمایا کہ ایک احمدی مسلمان کا فرض ہے کہ وہ حکومت وقت کا بھی وفادار رہے۔اور قانون کے اندر رہ کر کام کرے۔میں نے جواب دیا کہ حضور کی تفسیر نے یہ ساری باتیں میرے دن پر نقش کر دی ہیں۔کچھ دنوں کے بعد جب قادیان سے مجھے معلوم ہوا۔کہ میری بیعت قبول کر لی گئی تو میں سجدہ میں گھر گیا۔تفسیر کبیر میں ایک مقام پر میں نے پڑھا تھا کہ خلیفہ جو مصلح موعود ہوگا وہ اسیروں کی رہائی کا باعث ہوگا۔میں نے حضور سے درخواست کی کہ وہ میری رہائی کے لئے دعا فرمائیں۔حضور خلیفہ صاحب نے دعا فرمائی کہ اللہ تعالئے آپ کی رہائی کے سامان کرے۔اس کے چند ہی دنوں بعد میں رہا ہو گیا۔خلیفہ موعود کی نسبت یہ پیشین گوئی کہ وہ اسیروں کی رہائی کا باعث ہوگا ئیں اس کا زندہ ثبوت ہوں " سے فصل بیستم پیش کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ ان دو برسوں ۱۹۴۰۰۴۱ء سیدنا الثانی حضرت امیر المومنین کی طرف سے میں ستات حضرت خلیفہ اسی نشان نے بدعت سے بچھڑے کی تصفیہ مسائل کے بعض آسان طریق ہوئے غیر مبانی بھائیوں کونہ صرف دلائل و براہین کے ذریعہ قریب تر لانے کی انتہائی کوشش کی بلکہ جناب مولوی محمد علی صاحب ( امیر احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور) کے سامنے تصفیہ مسائل کے لئے لیکے بعد دیگرے پانچ نہایت آسان طریق پیش کر کے مفاہمت کی راہ بالکل صاف کر دی۔اس سلسلہ میں پہلا طریق فیصلہ حضور نے یہ پیش فرمایا کہ : دونوں فریق کی وہ تحریرات جو زمانہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ہیں اکٹھی شائع کردی له بحوالہ" الفضل " ۲۳ احسان جون مرا به بیش صفحه ۰۴۱۲ ۱۹۹۲