تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 167
14۔دکن کے ایک بی۔اے۔این۔ایل۔بی ایڈوکیٹ کا جو سالہا سال انجمن اتحاد المسلمین کے بڑے پر خوش رکن رہے اور اسی سلسلہ میں جیل بھی گئے اور صدق سے بھی مخلصانہ تعلق برسوں قائم رکھا ، تازہ مکتوب صرف ان کے نام اور سابق مستقر کے حذف کے بعد :- حیدر آباد دکن ۲۸ مارچ نه حضرت قبلہ - السلام عليكم دار السلام مجلس استحاد المسلمین کے سلسلے میں گورنمنٹ اندھرا پردیش نے مجھے ۲۶ ستمبر نہ کو نظر بند کیا اور حال میں میری رہائی ہوئی۔ان دنوں میرا مستقر۔۔۔۔متھا۔جیل لے جانے والے عہدہ داروں سے میں نے درخواست کی کہ ( مجھے اسٹیشن پر گرفتار کیا گیا تھا جبکہ میں ایک پیشی کر کے۔۔۔۔سے واپس ہو رہا تھا، مجھے گھر لے جا کر قرآن کریم ساتھ لینے کی اجازت دیں۔پولیس کے عہدیدار بڑے شریف مزاج تھے۔اپنی حراست میں مجھے گھر لے گئے۔میرے ایک دوست تھے جنہوں نے مجھے حضور خلیفہ صاحب جماعت احمدیہ کی لکھی ہوئی تفسیر کبیر کی بجلد دی تھی۔مجھے پڑھنے کی فرصت نہ ملتی تھی۔ایک دن دوپہر کے وقت جب میں کھانے کے لئے آفس سے گھر آیا تو بیوی نے دستر خوان پچھنے میں کچھ دیر کی۔تفسیر کبیر کی جلد میر یہ بازو میں تھی۔میں نے اُٹھالی اور چند اوراق الٹ کر دیکھنے شروع کئے۔یہ والْعَادِيَاتِ صبحا کی تفسیر کے صفحات تھے۔میں حیران ہو گیا کہ قرآن مجید میں ایسے مضامین بھی ہیں۔پھر میں نے قادیان خط لکھا اور تفسیر کبیر کی حملہ جلدیں منگوائیں۔لیکن پڑھنے کا مجھے وقت نہ ملنا تھا۔جبیل کو روانگی کے وقت میں نے یہ جلدیں ساتھ رکھ لیں اور نو ماہ کے عرصہ میں جب کہ میں جیل میں تھا متعدد بار صرف یہی تفسیر پڑھتا رہا۔جیل ہی میں میں نے بیعت کولی اور جماعت احمدیہ کے لئے اپنے آپ کو وقف کر دیا۔آپ بھی دعا فرمائیں " سید جعفر حسین صاحب ایڈوکیٹ نے اس مختصر مکتوب کے بعد ایک مفصل مضمون بھی اخبار صدق ید کو بھجوایا جس میں انہوں نے تفسیر کبیر کے مبارک اثرات اور قبول حق کے حالات پہ قدرے تفصیل سے روشنی ڈالی۔یہ مضمون " صدق جدید" کے دو نمبروں میں قسط وار (۸ - ۱۵ جون ر) شائع ہوا۔اس ل بجواله الفضل" هر هجرت /مئی ۱۳۴۷ ریش " ۵ -