تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 158
اها پر حاوی تھی۔چنانچہ جب میں نے عصر کی نماز کا سلام پھیرا تو بے تحاشہ میری زبان سے الحمد للہ کے الفاظ بلند آواز سے نکل گئے " لے " تفسیر کبیر" کے ذریعہ کلام اللہ کا مرتبہ اس شان سے تفسیر کبیر کی بعض اہم خصوصیات ظاہر ہوا ہے کہ اس کی نظیر مخلفار کی گذشتہ تاریخ میں تلاش کرنا محال ہے یہ تفسیر دنیلہ کے تغیر کی ایک بے نظیر تفسیر ہے جس نے نہ صرف قرآن کے حسین چہرہ بھی کو صحیح صورت میں دنیا کے سامنے پیش کیا ہے بلکہ زمانہ مستقبل کے مفسرین کے لئے صحیح راستوں کی نشاندہ بھی کی ہے۔یہی وجہ ہے کہ یہ عظیم الشان تفسیر اپنے اندر بے شمار خصوصیات رکھتی ہے جن میں سے بعض کا نہایت مختصر سا تذکرہ ذیل میں کیا جاتا ہے :- " پہلی خصوصیت اس تغیر کی پہلی عظیم خصوصیت یہ ہے کہ اس سے آیتوں اور سورتوں کی ترتیب اور ربط کا محکم قرآنی نظام آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔ترتیب کا یہ مضمون ان مضامین میں سے ہے۔جو اللہ تعالیٰ نے سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثانی کو خاص طور پر عطافرمائے تھے۔چنانچہ حضرت اقدس فرماتے ہیں۔میرا ترجمہ اور میری تفسیر ہمیشہ ترتیب آیات اور ترتیب سور کے ماتحت ہوتی ہے۔اور یہ لازمی بات ہے کہ جو شخص اس نکتہ کو مد نظر رکھے گا وہ فوراً یہ نتیجہ نکال لے گا کہ اس ترتیب کے ماتحت فلاں فلاں آیات کے کیا معنی ہیں۔فرض کرو ، ایک نقطہ یہاں ہے اور ایک وہاں اور درمیان میں جگہ خالی ہے تو ہوشیار آدمی دونوں کو دیکھ کر خود بخود درمیانی خلا کو پُر کو سکینگا اور وہ سمجھ جائے گا کہ جب یہ نقطہ فلاں بات کی طرف توجہ دلاتا ہے اور وہ نقطہ فلاں بات کی طرف تو درمیان میں جو کچھ ہو گا وہ بہر حال وہی ہو گا جو ان دونوں نقطوں کے مطابق ہو۔اگر درمیانی مضمون کسی اور طرات چلا جائے تو دائیں بائیں کے مضامین بھی لازماً ادھورے رہ جائیں گے اور سلسلہ مطالب کی کڑی ٹوٹ جائے گی۔پس میں چونکہ ہمیشہ ترتیب آیات اور ترتیب سور کو ملحوظ رکھ کر تفسیر کیا کرتا ہوں اس لئے اگر کوئی شخص میری ترتیب کو سمجھ لے تو گو میں نے کسی آیت کی کہیں تغیر کی ہوگی اور کسی آیت کی کہیں۔درمیانی آیات کا حل کرنا اس کے لئے بالکل آسان ہوگا کیونکہ ترتیب مضمون + ه تفسیر کبیر جلد ششم جز و چهارم نصف اول سورة الفجر : ۴۸۴ - ۴۸۵ ۰