تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 159
۱۵۲ اُسے کسی اور طرف جانے ہی نہیں دے گی اور وہ اس بات پر مجبور ہوگا کہ باقی آیتوں کے وہی معنی کرے جو اُس ترتیب کے مطابق ہوں۔۔۔۔اسی طرح میری تفسیر کے نوٹوں سے انسان سارے قرآن کریم کی تفسیر سمجھ سکتا ہے بشرطیکہ وہ ہوشیار ہو اور قرآن کریم کو سمجھنے کا مادہ اپنے اندر رکھتا ہو سکے اسی ضمن میں حضور نے سورہ کہف کے درس کے دوران کا ایک واقعہ بھی تفسیر کبیر میں لکھا ہے۔فرماتے ہیں :۔یکن جب سورہ کہف کا درس دینے لگا اور میں نے اس سورۃ پر غور کیا تو اور سُورۃ تو سب حل ہو گئی مگر ایک آیت کی مجھے سمجھ نہ آئی۔میں نے بہت سوچھا اور غور کیا مگر وہ آیت مجھے بالکل لیے چھوڑ معلوم ہوتی تھی۔آخر میں نے درس دینا شروع کر دیا۔جوں جوں وہ آیت قریب آئی جائے میری گھبراہٹ بڑھتی چلی جائے کہ اب اس آیت کے متعلق کیا ہوگا یہانتک کہ صرف دویا تین آیتیں رہ گئیں مگر پھر بھی وہ میری سمجھ میں نہ آئی۔اُس وقت میری گھبراہٹ بہت زیادہ ہوگئی۔مگر جس وقت میں اس سے پہلی آیت پر پہنچا تو مجھے یوں معلوم ہوا کہ وہ آیت تو بالکل حل شدہ ہے اور اس کے نہایت صاف اور سیدھے معنے ہیں جن میں کسی قسم کی الجھن نہیں۔تو حقیقت یہ ہے کہ اگر قرآن کریم کی ترتیب کو مدنظر رکھا بھائے اور اس پر غور اور تقریبہ کرنے کی عادت ڈالی جائے تو اس کی بہت سی مشکلات خود بخود حل ہو بھاتی ہیں" کے دوسری خصوصیت تفسیر کبیر میں قرآن مجید کی آیات کا ترجمہ اور تفسیر عربی زبان کی مستند لغات (مثلاً تاج العروس ، المنجد ، کلیات ابو البقاء ، اقرب الموارد ، مفردات ، لسان العرب ، قاموس) کی روشنی ہیں کی گئی اور وہی معنے اختیار کئے گئے جن کی اجازت لغت دیتی ہے۔تیسری خصوصیت اس تغیر کی تیسری اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس میں الفاظ کے مختلف لغوی معانی بیان کر کے مختلف زاویہ ہائے نگاہ سے قرآنی حقائق و معارت کا انکشاف کیا گیا ہے۔یہ وہ علم ہے جو حضرت له " الفضل" اور وفا جولائی له میش ( تقریر فرموده سالانه جلسه میشه ۱۱۹۴۵ " تفسیر کبیر ( سورۃ مریم صفحه ۳۲۲ - ۳۲۳ :