تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 157 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 157

۱۵۰ حل ہو گئی۔مگر چونکہ عین وقت پر حل ہوئی اس لئے میرے قرآن کریم کے حاشیہ پر وہ معنی نہ لکھے گئے۔اور کچھ عرصہ بعد مجھے بھول گئے۔اب گو ان معنوں کو ئیں بھول چکا تھا مگر جب ترتیب آیات کے لحاظ سے غور کرتے ہوئے میں اس آیت پر پہنچا تو فوراً وہی معنے پھر ذہن میں آگئے۔تو ترتیب کے لحاظ سے جو شخص آیات کے معنے کرنے کا عادی ہو وہ ادھر ادھر جا ہی نہیں سکتا۔وہ اسی رو اور اسی نالی میں بہہ رہا ہوتا ہے جس کی طرف مضمون زبان حال سے اشارہ کر رہا ہوتا ہے۔غرض جوں جوں سورۃ فجر کا درس نزدیک آتا گیا میرا اضطراب بھی بڑھتا چلا گیا۔میں نے کہا جب اس سورۃ کے متعلق میری اپنی تسلی ہی نہیں ہوئی تو میں دوسروں کو کیسے مطمئن کر سکتا ہوں۔مفسرین نے جو معنی بیان کئے ہیں وہ میں بیان کر سکتا تھا۔مگر جو ترتیب گذشتہ سورتوں سے میں بتاتا آرہا ہوں اس کے لحاظ سے چاروں کھونٹے قائم نہیں ہوتے تھے پہلے خیال آیا کہ میں دوسروں کے معانی ہی نقل کردوں کیونکہ یہ درس اب جلد کتابی صورت میں چھپنے والا ہے کب تک میں ان معانی کا انتظار کروں جو ترتیب کے مطابق ہوں۔شاید ترتیب کے مطابق معنے اللہ تعالیٰ پھر کسی وقت کھول دے۔آخر پرانے مفسروں نے کوئی نہ کوئی معنے ان آیات کے کئے ہی ہیں۔رازی نے بھی اس کے معنے لکھے ہیں۔بحر محیط والوں نے بھی معنے لکھے ہیں۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے بھی معنے کئے ہوئے ہیں۔اور ان تمام معانی کو ملحوظ رکھ کر کچھ نہ کچھ بات بن ہی بجھاتی ہے۔مگر چونکہ میرا دل کہتا تھا کہ ترتیب آیات کو مد نظر رکھتے ہوئے وہ معانی پوری طرح ہم منطبق نہیں ہوتے۔مجھے اطمینان نہ ہوا۔یہانتک که ۷ ارماه صلح ۱۳۲۷ پیش مطابق ۷ ارجنوری ائر بروز بدھ میں سورۃ غاشیہ کا درس دینے کے لئے مسجد مبارک میں آیا۔میں نے درس سورۃ نقاشیہ کا دینا تھا مگر میں غور سورۃ فجر یہ کہ رہا تھا۔اسی ذہنی کشمکش میں میں نے عصر کی نماز پڑھانی شروع کی اور میرے دل پر ایک بوجھ تھا لیکن خدا تعالے کی قدرت ہے کہ جب میں عصر کی نماز کے آخری سجدہ سے سر اُٹھا رہا تھا تو ابھی سر زمین سے ایک بالشت بھر اُونچا آیا ہو گا کہ ایک آن میں یہ سورۃ مجھ پر حل ہو گئی۔پہلے بھی کئی دفعہ ایسا ہوا ہے کہ سجدہ کے وقت خصوصاً نماز کے آخری سجدہ کی حالت میں اللہ تعالیٰ نے بعض آیات کو مجھ پر حل کر دیا مگر اس دفعہ بہت ہی زبر دست تفہیم تھی کیونکہ وہ ایک نہایت مشکل اور نہایت وسیع مضمون