تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 138
۱۳۵ سے معلوم ہوا ہے کہ بالعموم وہ روایت کو اپنے الفاظ میں درج کر دیتے ہیں مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ بہت سی تفاسیر کا خلاصہ اس میں آجاتا ہے۔اب میں ان ماخذوں کا ذکر کرتا ہوں جن سے مجھے نفع ہوا ہے۔اور سب سے پہلے اس ازلی ابدی منفذ علوم کا شکریہ ادا کرتا ہوں جس سے سب علوم نکلتے ہیں اور جن کے باہر کوئی علم نہیں۔وہ علیم وہ نور ہی سب علم بخشتا ہے۔اسی نے اپنے فضل سے مجھے قرآن کریم کی سمجھ دی اور اس کے بہت سے علوم مجھ پر کھولے اور کھولتا رہتا ہے۔جو کچھ ان نوٹوں میں لکھا گیا ہے ان علوم میں سے ایک حصہ ہے۔سُبحَانَ اللَّهِ وَالْحَمدُ لِلَّهِ وَلَا حَولَ وَلَا قوة الا بالله - دوسرا ماخذ قرآنی علوم کا حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے آپ قرآن نازل ہوا۔اور آپ نے قرآن کو اپنے نفس پر وارد کیا حتی کہ آپ قرآن محبتم ہو گئے آپ کی ہر حرکت اور آپ کا سکون قرآن کی تفسیر تھے۔آپ کا ہر خیال اور ہر ارادہ قرآن کی تفسیر تھا۔آپ کا ہر احساس اور ہر ہر جذبہ قرآن کی تفسیر تھا۔آپ کی آنکھوں کی چمک میں قرآنی قیر کی تھیلیاں تھیں اور آپ کے کلمات قرآن کے باغ کے پھول ہوتے تھے۔ہم نے اس سے مانگا اور اس نے دیا۔اس کے احسان کے آگے ہماری گردنیں خم ہیں DANDANT KANWALA NA محمد وعلى ال محمد وَبَارِكَ وَسَلَّمُ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيد۔پھر اس زمانہ میں علوم قرآنیہ کا ماخذہ حضرت مرزا غلام احمد مسیح موعود و مہدی مسعود کی ذات علیہ الصلوۃ والسلام ہے جس نے قرآن کے بلند و بالا درخت کے گرد سے جھوٹی روایات کی آکاس بیل کو کاٹ کر پھینکا اور خدا سے مدد یا کہ اس جنتی درخت کو سینچا اور پھر سر سبز و شاداب ہونے کا موقعہ دیا۔الحمد للہ ہم نے اس کی رونق کو دوبارہ دیکھا اور اس کے پھل کھائے اور اس کے سائے کے نیچے بیٹھے۔مبارک وہ جو قرآنی باغ کا باغبان بنا۔مبارک وہ جس نے اُسے پھر سے زندہ کیا اور اس کی خوبیوں کو ظاہر کیا۔مبارک وہ جو خدا تعالے کی طرف سے آیا۔اور خدا تعالے کی طرف چلا گیا۔اس کا نام زندہ ہے اور زندہ رہے گا۔مجھے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے علوم سے بہت کچھ دیا ہے اور حق یہ ہے کہ اس میں میرے فکر یا میری کوشش کا دخل نہیں۔وہ صرف اس کے فضل سے ہے۔مگر اُس فضل