تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 137
۱۳۴ کی ضرورت الگ ہوتی ہے اور ہر زمانہ کی ضرورت کے مطابق قرآن کریم میں علوم موجود ہیں جو اپنے موقع پر کھولے جاتے ہیں۔پہلے مفسرین نے اپنے زمانہ کی ضرورتوں کے مطابق بہت بڑی خدمت قرآن کریم کی کی ہے اس کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔اگر وہ دو غلطیاں نہ کرتے تو اُن کی تفاسیر دائمی خو بیاں رکھتیں۔(1) منافقوں کی باتوں کو جو انہوں نے مسلمانوں میں مل کر شائع کیں۔ان تفاسیر میں جگہ دے دی گئی ہے اور اس وجہ سے بعض مضامین اسلام اور آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی ذات کے لئے ہتک کا موجب ہو گئے ہیں۔(۳) انہوں نے یہودی کتب پر بہت کچھ اعتبار کیا ہے اور ان میں سے بھی مصدقہ باکسپل پر نہیں بلکہ یہود کی روایات پر۔اور اس طرح دشمنوں کو اعتراض کا موقع دے دیا ہے۔اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا کہ لَا تُصَدِ تُوهُمْ وَلَا تَكْذِبُوهُمْ ان کے ذہن میں رہتا تو یہ مشکل پیش نہ آتی۔بہر حال ان دو غلطیوں کو چھوڑ کر جو محنت اور خدمت ان لوگوں نے کی ہے اللہ تعالے ہی اُن کی بینا ہو سکتا ہے۔دو اور غلطیاں بھی اُن سے ہوئی ہیں۔مگر میں سمجھتا ہوں وہ زمانہ کے اللہ کے نیچے تھیں ایک بعض آیات کو منسوخ قرار دے دینا ، دوسرے مضامین قرآن کی ترتیب کو خاص اہمیت نہ دینا۔مگر میرے نزدیک با وجود زمانہ کی لہو کے خلاف ہونے کے اس بارہ میں انہوں نے سفید بعد و جہد ضرور کی۔اور بالعموم (گو اصولی طور پر نہیں ) آیات زیر بحث کو غیر منسوخ ثابت کرنے کے لئے محقق مفترین نے ضرور کوشش کی ہے۔اسی طرح مطالب کی ترتیب کے متعلق بھی بہت زور لگایا ہے میرے نزدیک ان محقق مفسرین میں علامہ ابن کثیر، علامہ ابوحیان صاحب محیط اور علام زمخشری صاحب کشان خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔گو آخر الذکر پر اعتزال کا داغ ہے۔طبری نے تفسیر کے متعلق روایات جمع کرنے میں خاص کام کیا ہے اور علامہ ابو البقاء نے اعراب قرآن کے متعدن املاءها من بہ الرحمن کتاب لکھ کر ایک احسان عظیم کیا ہے۔گذشتہ صدی کی کوششوں میں تفسیر روح المعانی علوم تقلید کی جامع کتاب ہے۔نگہ تجربہ