تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 139
کے جذب کرنے میں حضرت استاذی المکرم مولوی نورالدین صاحب خلیفہ المسیح الاول کا بہت ساحصہ ہے۔میں چھوٹا تھا اور بیمار رہتا تھا۔وہ مجھے پکڑ کے اپنے پاس بٹھا لیتے تھے اور اکثر یہ فرماتے تھے کہ میاں تم کو پڑھنے میں تکلیت ہوگی۔میں پڑھتا جاتا ہوں تم سنتے جائے اور اکثر اوقات خود ہی قرآن پڑھتے خود ہی تفسیر بیان کرتے۔اس کے علوم کی چاٹ مجھے انہوں نے لگائی اور اس کی محبت کا شکار بانی سلسلہ احمدیہ نے بنایا۔بہر حال وہ عاشق قرآن تھے اور ان کا دل چاہتا تھا کہ سب قرآن پڑھیں۔مجھے قرآن کا ترجمہ پڑھایا اور پھر بخاری کاری اور فرمانے لگے لومیاں سب دُنیا کے علوم آگئے۔ان کے سوا جو کچھ ہے یا زائد یا ان کی تشریح ہے۔یہ بات ان کی بڑی سیتی تھی جب تک قرآن و حدیث کے متعلق انسان کا یہ یقین نہ ہو علوم قرآنیہ سے حصہ نہیں لے سکتا۔میں آخر میں ان سب کام کرنے والوں کے لئے جنہوں نے ان نوٹوں کی طباعت میں حصہ لیا ہے دُعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالے اُن پر اپنا فضل فرمائے۔انہوں نے رات دن محنت کر کے اس کام کو تھوڑے سے وقت میں ختم کیا ہے۔اللہ تعالے ان سب کی محنت اور قربانی کا بدلہ اپنے پاس سے دے۔آمین۔پھر اسے پڑھنے والو! میں آپ سے کہتا ہوں ، قرآن پڑھنے پڑھانے اور عمل کرنے کے لئے ہے۔پس ان نوٹوں میں اگر کوئی خوبی پاؤ تو انہیں پڑھو پڑھاؤ اور پھیلاؤ، عمل کرو عمل کراؤ اور عمل کرنے کی ترغیب دو۔یہی اور یہی ایک ذریعہ اسلام کے دوبارہ اخبار کا ہے۔اسے اپنی خانی اولاد سے محبت کرنے والو اور خدا تعالیٰ سے ان کی زندگی چاہنے والو! کیا اللہ تعالے کی اس یاد گار اور اس تحفہ کی ردھانی زندگی کی کوشش میں حصہ نہ لو گے تم اس کو زندہ کرد ، وہ تم کو اور تمہاری نسلوں کو ہمیشہ کی زندگی بخشے گا۔اُٹھو کہ ابھی وقت ہے۔دوڑو کہ خدا کی رحمت کا دروازہ ابھی کھلا ہے۔اللہ تعالیٰ آپ لوگوں پر بھی رحم فرمائے اور مجھ پر بھی کہ ہر طرح سیکس ہے ہیں اور پر شکستہ ہوں اگر مجرم بنے بغیر اس کے دین کی خدمت کا کام کر سکوں تو اس کا بڑا احسان ہوگا۔يَا سَتَارُ يَا خَفَارُ ارحمني يا اَرحَمَ الرَّاحِمِينَ بِرَحْمَتِكَ اَسْتَخِيْتُ مرزا محمود احمد ۲۰ ماه فتح ۱۳۱۹ ش - ۲۰ ذیقعده ۱۳۵۶ هجری ۲۰ دسمبر ۱۹۹