تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 136 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 136

۱۳ سے پوری کوشش کی ہے کہ قرآن کریم کا صحیح مفہوم پیش کروں اور مجھے یقین ہے کہ اس تفسیر کا بہت سا مضمون میرے محور کا نتیجہ نہیں بلکہ اللہ تعالے کا عطیہ ہے مگر بہر حال چونکہ میرے دماغ نے بھی اس کام میں حصہ لیا ہے اس لئے ممکن ہے کہ کوئی بات اس میں ایسی ہو جو قرآن کریم کے منشاء کو پوری طرح واضح نہ کرتی ہو۔اس لئے میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ اپنے کلام کی خوبیوں سے اپنے بندوں کو نفع پہنچائے اور انسانی غلطیوں کے نقصان سے محفیظ رکھے۔اگر اللہ تعالیٰ نے توفیق عطاء فرمائی تو انشاء اللہ اگلی جلد سورۃ فاتحہ سے شروع کی جائیگی۔یہ جلد پہلے اس لئے شائع کی گئی ہے کہ ان سورتوں کے متعلق میرے ایک درس کے نوٹ اڑھائی سو صفحات تک چھپ چکے تھے اور ان کے ضائع ہونے کا ڈر تھا۔پس مناسب سمجھا گیا کہ پہلے سورۃ یونس سے سورۃ کہف تک تفسیری نوٹوں پر مشتمل جلد شائع ہو۔اور اگر اللہ اللہ توفیق عطا فرمائے تو بعد میں قرآن کریم کی بقیہ سورتوں کے تفسیری نوٹ شروع سے ترتیب وار شائع کئے جائیں۔میں نے تفسیری نوٹوں کو لکھتے ہوئے اس امر کو مد نظر رکھا ہے کہ آیات اور سورتوں کی ترتیب اچھی طرح ذہن نشین ہو جائے۔جہاں تک میں سمجھتا ہوں انشاء اللہ تعالے قرآن کریم کے معافی کا ایک سلسلہ پوری ترتیب کے ساتھ پڑھنے والے کی سمجھ میں آجائے گا۔اور وہ کسی صورت یا کسی آیت کو بے جوڑ نہ سمجھے گا۔ترتیب کا مضمون ان مضامین میں سے ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے خاص طور پر سمجھائے ہیں۔وَلا يُحِيطُ اَحَدُ بِشَيْ مِنْ عِلْمِهِ الإِيمَا شاءَ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرضَ۔رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں قرآن کریم کے سات بطن ہیں اور ہر بطن کے کئی معانی ہیں۔اس سورۃ میں قرآن کریم کی کوئی ایسی تفسیر لکھنا جو سب معانی پرمشتمل ہو ، نا مسکن ہے۔اور جو شخص کہے کہ اس تھے قرآن کریم کی مکمل تفسیر لکھ لی ہے وہ دیوانہ ہے یا جاہل۔جو شخص میرے نوٹوں کی نسبت کوئی ایسی بات منسوب کر سے میں اُس سے بری ہوں۔میرے نزدیک ان نوٹوں کی خوبی یہی بہت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر فضل فرما کر موجودہ زمانہ کی ضرور تو کے متعلق بہت کچھ انکشافت فرمایا ہے۔نگہ ہر زمانہ کی ضرورت الگ ہوتی ہے اور ہر زمانہ