تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 135
۱۳۲ حضرت مسیح موعود کا وہ خواب مندرجہ ذیل ہے :- " آج ہی ایک خواب میں دیکھا کہ ایک چوغہ زریں جس پر بہت شہری کام کیا ہوا ہے۔مجھے غیب سے دیا گیا ہے۔ایک چور اس چوغہ کو لے کر بھاگا۔اس چور کے پیچھے کوئی آدمی بھا گا جس نے چور کو پکڑ لیا اور چوغہ واپس لے لیا۔بعد اس کے وہ چوغہ ایک کتاب کی شکل میں ہو گیا جس کو تفسیر کبیر کہتے ہیں اور معلوم ہوا کہ کپور اس کو اس غرض سے لے کر بھاگا تھا کہ اس تفسیر کو نابود کر دیے۔اگه دو فرمایا۔اس کشف کی تعبیر یہ ہے کہ چور سے مراد شیطان ہے۔شیطان چاہتا ہے کہ ہمارے ملفوظات لوگوں کی نظر سے مغائب کر دے۔مگر ایسا نہیں ہوگا اور تفسیر کبیر جو چونہ کے رنگ میں دکھائی گئی اس کی یہ تعبیر ہے کہ وہ ہمارے لئے موجب عزت اور زینت ہوگی۔واللہ اعلم " کے تفسیر کبیر کے مسودات پر نظرثانی مکمل ہو چکی تو حضور نے ۲۰ فتح / دسمبر ہی کو اپنے دست دیباچہ مبارک سے ایک دیباچہ تحریر فرمایا۔جس میں نہایت اختصار مگر جامعیت کے ساتھ اس تفسیر کے پس منظر، اس کی خصوصیات اور اس کے ماخذوں پر روشنی ڈالی اور اُن امور کی نشاندہی فرمائی جو اس کی تصنیف کے وقت حضور کے پیش نظر تھے۔اس اہم دیباچہ کا مکمل متن درج ذیل کیا جاتا ہے :۔أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ سمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلّى عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمُ هوالت خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ کچھ تفسیر کبیر کے متعلق سامر سورہ یونس سے سورہ کہف تک کے تفسیری نوٹ شائع ہو رہے ہیں۔میں نے اپنی طرف -19۔به مورخه هم د کشمیر نشانه ها کے بدر مورخه در تهران انه صفحه ۳ ، " الحكم "۔ار ستمبر مشابه صفرا سے یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ تفسیر کبیر جلد سوم نہایت ہی تنگ وقت اور مہلت میں طبع ہوئی تھی جس کی وجہ سے سورہ کہف کی آیت ثُمَّ بَعَثْنَاهُمْ لِنَعْلَمَ أَى الْحُزُبَيْنِ أَحْصَى لِمَا ليتوا امرا کی تفسیر جو اصل مسودہ میں موجود تھی سہو کتابت سے رہ گئی تھی۔یا میں میں جبکہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی المصلح الموعود ڈاہوری میں قیام فرما تھے مولوی ابو المنیر نور الحق صاحب نے حضور کی خدمت میں اس امر کا ذکر کیا تو حضور نے دوبارہ اس آیت کی مفصل تفسیر لکھوادی جیسے مولوی صاحب موصوف نے الفصل ۲۰ شہادت / اپریل کی لہر میں صفحہ سہ میں شائع کرا دیا ہے " ن