تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 134
۱۳۱ یہ کیونکر کہہ سکتا ہوں۔ہم یہ تو کوشش کر سکتے ہیں کہ اپنے زمانے کے علوم ایک حد تک بیان کر دیں مگریہ کہ قرآن کریم کے اپنے زمانہ کے بھی سارے علوم بیان کر دیں۔اس کا تو میں خیال بھی دل میں نہیں لا سکتا۔قرآن کریم کے نئے نئے معارف ہمیشہ کھلتے رہتے ہیں۔آج سے سو سال کے بعد جو لوگ آئیں گے وہ ایسے معارف بیان کر سکتے ہیں جو آج ہمارے ذہن میں بھی نہیں آسکتے۔اور پھر دو سو سال بعد غور کرنے والوں کو اور معارف میں گے۔بعض نادان خیال کرتے ہیں کہ اس طرح کہنے سے لوگوں کی توجہ تفسیر کی طرف سے ہٹ جائے گی اور بعض دفعہ بعض نادان یہ بھی کہہ دیا کہتے ہیں کہ انہوں نے تو خود کہہ دیا ہے کہ یہ کچھ نہیں۔مگر میں قرآن کریم کے متعلق سچائی کے بیان کو ہر چیز سے زیادہ ضروری خیال کرتا ہوں۔لاکھوں کا تفسیر نہ پڑھنا بہت کم نقصان دہ ہے یہ نسبت اس کے کہ ایک بھی شخص ہو جو یہ خیال کرے کہ اس تفسیر میں سب کچھ آچکا ہے۔اگر دس کروڑ آدمی بھی خیال کر لیں کہ اس میں کچھ نہیں تو کوئی نقصان نہیں بہ نسبت اس کے کہ ایک بھی یہ خیال کرے کہ اس میں سب کچھ آگیا ہے جو یہ خیال کرے گا کہ اس میں کچھ نہیں وہ تو میرے کلام سے محروم رہے گا لیکن یہ سمجھنے والا کہ ان میں سب کچھ آگیا ہے خدا تعالیٰ کے کلام سے محروم رہ جائے گا " پھر فرمایا : چونکہ یہ خدائی تائید سے لکھی گئی ہے اس لئے میں کہہ سکتا ہوں کہ اس میں اس زمانہ یا آئندہ زمانہ کے ساتھ تعلق رکھنے والی دینی اور روحانی باتیں جو لکھی گئی ہیں وہ صحیح ہیں۔ہاں بعض آئندہ ہونے والی باتوں کے متعلق یہ احتمال ضرور ہے کہ ہم اُن کے اور معنے کریں اور جب وہ ظاہر ہوں تو صورت اور نکلے۔پس جہاں تک علوم ، اخلاق ، رومانیت اور دین کا تعلق ہے میں امید کرتا ہوں کہ یہ بہتوں کے لئے ہدایت کا اور ان کو گمراہی سے بچانے کا موجب ہوگی اے تفسیر کبیر کا نام او س کی وجہ تسمیه این علما ان تغیر کا نام سید حضرت مسیح موارد الشان نا اوراس یہ علیہ اسلام کے ایک خواب کی بناء پر تفسیر کبیر" رکھا گیا۔له " الفضل" ۲ فتح / دسمبر به بیش صفحه ۰۴۰۳