تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 133
١٣٠ ہو جائیں گے جس محنت کے ساتھ کام کیا گیا ہے اس کا لازمی نتیجہ ہے کہ آخری حصہ ایسا اچھا نہیں چھپ سکتا جیسا کہ ارادہ تھا۔کاتبوں سے دن رات کام لیا گیا ہے۔اسی طرح پر ایس والوں سے بھی۔انسانی طاقت جتنا بوجھ اٹھا سکتی ہے اُسے اُٹھانے کا بہت اعلیٰ نمونہ کارکنوں نے دکھایا ہے۔مگر اس محنت کے باوجود کتابت وغیرہ کی بعض غلطیاں ہوں گی۔میں دوبارہ تو پر وقت دیکھ ہی نہیں سکا اور اس لئے مجھے خیال ہے کہ بعض جگہ ضرور غلطیاں رہ گئی ہوں گی۔لکھتے ہوئے بعض اوقات میں نوٹ دے دیتا ہوں کہ حوالہ دے دیا جائے یا فلاں معنی لغت سے نکال کر لکھ دیئے جائیں۔عین ممکن ہے ان میں سے کوئی حوالہ لکھنا رہ جائے یا معنے نقل کرنے رہ جائیں۔بہر حال اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ تمام کارکنوں نے بہت محنت اور اخلاص سے کام کیا ہے۔لیکن اس کے باوجود بعض غلطیاں رہ گئی ہوں گی۔ہم غلط نامہ کی اشاعت کی بھی کوشش کر رہے ہیں یہانتک میں سمجھتا ہوں آخری حصہ میں پہلے سے کم غلطیاں ہوں گی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ مولوی محمد اسمعیل صاحب عالم تو بہت تھے مگر ان کو کاپی اور پیرون دیکھنے کی مشق نہ تھی۔اس لئے اس حصہ میں بہت غلطیاں رہ گئی ہیں۔کوئی حصہ کہیں چھوٹ گیا ہے، کوئی غلط جوڑ دیا گیا ہو ہم نے اس کی درستی بھی کی ہے۔بعض جگہ علیحدہ پر چیاں چھپوا کر لگا دی گئی ہیں۔غلط نامہ بھی چھپ جائے گا اور اس طرح صحت کی پوری پوری کوشش کی جا رہی ہے۔اب جماعت کا فرض ہے کہ اُس سے فائدہ اُٹھائے جیسا کہ میں نے بتایا ہے قرآن کریم کی تفسیر تو کوئی انسان نہیں لکھ سکتا اور اس لحاظ سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ قرآنی مطالب سارے یا آدھے یا سواں حصہ بلکہ ہزارواں حصہ بھی بیان کر دیئے گئے ہیں۔کیونکہ قرآن غیر محدود خدا کا کلام ہے۔اس لئے اس کے علوم بھی غیر محدود ہیں۔اور اس نسبت سے ہم اس کے مطالب کا نہ کروڑواں نہ اربواں حصہ بیان کر سکتے ہیں۔زیادہ سے زیادہ یہ کہ سکتے ہیں کہ اس زمانہ کی ضرورتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ضروری باتوں پر روشنی ڈال دی گئی ہے۔مجھے اس خیال سے شدید ترین نفرت ہے کہ تفاسیر میں سب کچھ بیان ہو چکا ہے۔ایسا خیال رکھنے والوں کو میں اسلام کا بدترین دشمن خیال کرتا ہوں اور احمق سمجھتا ہوں گو وہ کتنے بڑے بڑے بجتے اور پگڑیوں والے کیوں نہ ہوں۔اور جب میرا دوسری تفسیروں کے متعلق یہ خیال ہے تو میں اپنی تفسیر کی نسبت