تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 126
۱۲۳ فصل ششم تفسیر کبیر جلد سوم کی اشاعت فتح اوسمبر اس پر بہش کا دن سلسلہ احمدیہ کی تاریخ میں ہمیشہ یادگار رہے گا۔کیونکہ ہی وہ مبارک $190۔دن ہے جبکہ حضر سے امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے مقدس ہاتھوں سے تفسیر کبیر جلد سوم جیسی معرکۃ الآرا تفسیر کی تالیف کا عظیم الشان کام پایہ تکمیل کو پہنچا۔اس کے تین روز بعد العینی ۲۴ فتح کی) اس کی طباعت کا مرحلہ ختم ہوا۔اور ۲۴-۲۵ فتح / دسمبر کی درمیانی شب کو میاں عبداللہ صاحب مالیر کوٹلوی جلد ساز نے اس کی ابتدائی مجلد کا پیاں تیار کیں اور یہ روحانی خزانہ سالانہ جلسه میش پر پہلے بیرونی احباب کو حاصل ہوا، اور بعد کو قادیان کے احمدیوں کے ہاتھوں تک پہنچا۔اس طرح دنیائے تفسیر میں ایک ایسے انقلاب انگیز دور کا آغاز ہوا جس سے لاکھوں قلوب و اذہان میں خدائے عزوجل کے کلام پاک کی نئی شمعیں روشن ہو گئیں اور قرآن مجید کے غیر محدود حقائق و معارف معلوم کرنے کے لئے بیشمار در پیچے کھل گئے۔جیسا کہ جلد ششم کی چوتھی فصل (صفحہ ۷۷ تا ۸۳) میں بالتفصیل ۹۲ہ کا مشہور درس القرآن بتایا جا چکا ہے کہ حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ اور اُس کے نوٹ نے دراگست ۹۲۸ہ سے لے کر ستمبر شاہ تک ایک نہایت روح پرور درس قرآن دیا تھا جو سورہ یونس سے سورہ کہف کے پانچ پاروں پر مشتمل تھا۔اس درس کے لکھنے کی سعادت حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب ، حضرت مولانا عبد الرحمن صاحب جٹ مولانا ارجمند خان صاحب، مولانا غلام احمد صاحب بد و ملہوی ، مولوی ظہور حسین صاحب (مبلغ بخارا و روس ) مولانا ابو العطاء صاحب جالندھری، حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی ، مولانا عبدالغفور صاحب ، مولوی محمد یار صاحب عارف ، مولوی ظفر الاسلام صاحب اور شیخ چراغ الدین صاحب کو نصیب ہوئی۔سکے رو ر " الفضل" ۲۷ فتح / دسمبر س ا ر ش صفحه ۴ کالم ۲ - ۳ : سیجی از تاریخ احمدیت مجلد ششم صفحه ۲۸ ۱۹۴۰