تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 125
۱۲۲ تھے۔یہ تفسیر قادیاں میں شب و روز کی محنت سے بر وقت شائع ہوئی اور حضرت صاحب کی عنایت سے اس تفسیر کبیر کی ایک جلد مجھے بھی حیدرآباد میں ملی جس کا میں بے حد ممنون ہوں۔خداوند تعالے اُن کے کام میں برکت دے اور تمہیں احکام قرآنی کے سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین فقط نے مولوی محمد رفیق صاحب مجاہد اس سال کا ایک امناک واقعہ مولوی محمد رفیق صاحب محب بعد تحریک جدید کا انتقال ہے جو ترکستان کے مشہور شہر کا شعر میں تحریک جدید کا انتقال ہوا۔مولوی صاحب موصوف چاچڑ ضلع شاہ پور کے رہنے والے تھے۔تحریک جدید کے دسویں مطالبہ کے تحت وہ تحریک جدید سے صرف زاد راہ نے کر وطن سے نکل کھڑے ہوئے تھے با ۱۹۳ ء میں آپ مولوی (راجہ عدالت خال صاحب کی قیادت میں کشمیر پہنچے مولوی عدالت نفان صاحب کو اپنے ضلع سے غیر تسلی بخش رپورٹ آنے پر پاسپورٹ نہ مل سکا مگر آپ کو مل گیا اور آپ کچھ عرصہ سرینگر ٹھہرنے کے بعد گلگت پہنچے گلگت سے کا شعر تک کا سفر نہایت دشوار گذار ہے۔راستہ میں سر فیک پہاڑ اور خوفناک برفانی میدان آتے ہیں۔مولوی محمد رفیق صاحب دو ماہ میں یہ لمبا سفر طے کر کے صحیح و سالم کا شہر پہنچے۔قیام سرینگر کے دوران آپ نے کچھ چینی زبان سیکھ لی تھی۔کا شعر پہنچے کہ آپ نے درزی کا کام شروع کر دیا۔پھر پارچہ فروشی بھی کرنے لگے روسی حکومت کے حکم سے چند دن نظر بندر ہے مگر تبلیغ احمدیت کا کام برابر سرگرمی سے کرتے رہے۔ترکستان میں احمدیت کا بیج بو دیا یعنی حاجی آل احمد صاحب اور باجی جنود الله صاحب معه خاندان احمدی ہو گئے جیسا کہ جلد مفتم میں ذکر کیا جا چکا ہے۔موادی صاحب موصوف کا شعر میں تبلیغی جہاد میں مصروف تھے کہ یکایک استسقاء کی مہلک بیماری میں مبتلا ہو گئے اور اس سال شاش کے آخر میں اپنے مولائے حقیقی کو جاہے۔فانا للہ وانا الیہ راجعون مرکز احمدیت قادیان صفحه روم تا ۶۳ م مولعه شیخ محمد احمد صاحب عرفانی مرحوم کے الفصل ، رفع ایر این ایران آپ قیام پاکستان کے بعد سرگودھا میں آباد ہو گئے تھے اور شہر میں ایک اعلیٰ معالج دندان کی حیثیت سے خاصی شہرت رکھتے تھے۔۲۳ ظہور / اگست یہ مہیش کو آپ کا اسی شہر میں انتقال ہوا۔اور اگلے روز کے کام بہشتی مقبرہ ربوہ میں سپرد خاک کئے گئے۔آپ نے گیارہ بچے اپنی یادگار چھوڑے ہیں "الفضل "مورخہ ۲۷-۲۵ ظهور را گسترش ) :