تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 120 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 120

116 پنجاب کی آب و ہوا میں رہ کہ وہ کسب علم اور جماعت کی ضروریات کے انہماک میں رہ کرہ مجھ سے بڑے معلوم ہوتے ہیں۔قومی مغلوں کے سے ہیں۔آنکھوں میں چمک ویسی ہی ہے چہرے کی دونوں بڑیاں اُبھری ہوئی ہیں۔کشادہ پیشانی ، بلند قامت ہیں۔گفتار اور رفتار میں مردانہ وضع ہیں۔میاں جس مکان میں رہتے ہیں یہ اور بھائیوں کے مکانات سے ملا ہوا ہے۔بھتے بعدا بعدا ہیں مگر آپس میں سب ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں۔ان مکانو تک موٹہ آجاتی ہے۔یہاں سے قریب ہی مسجد اقصیٰ ہے اور اسی مسجد میں مینارہ اسیج ہے۔یہیں نماز جمعہ ہوتی ہے۔مسجد شاندار نہیں کیونکہ تھوڑی تھوڑی بنی ہے اور ہر حصہ اپنے پہلے حصہ سے جدا معلوم ہوتا ہے۔قادیان کے قیام میں میرا ناشتہ تو ڈاکٹر صاحب کے ہاں ہو تا۔اور وقتوں کے کھانے دعوتوں کی صورت میں ہوتے۔دھوتوں سے وقت بچتا تو قادیان کے قرب و جوار کے مقامات دیکھنے میں صرف کرتا۔محمود احمد عرفانی میرے ساتھ تھے اور بعد ھر مونہہ اُٹھتا اُدھر نکل جاتے۔پنجاب کی آب و ہوا دسمبر کا مہینہ ، مرغن اور مکلف کھانے کھاتا بھی اور سہیم بھی کر بجاتا۔اگر حیدر آباد میں ایک ہفتہ بھی بد پرہیزی کہ بھاتا تو اپریشن نہیں تو کم از کم تنقیہ معدہ کی ضرورت لاحق ہو بھاتی۔عزیزوں نے محبت سے کھلایا اور ایک عزیزہ مسافر نے آنکھیں بند اور دل کھول کر مسافر نوازی کی داد دی۔میرا قیام تو ڈاکٹر صاحب کے ہاں تھا مگر مہمانی پورے قادیان نے اور کی۔ڈاکٹر صاحب اکثر جگہ ساتھ ہوتے گھر وہ نقرس کے مرض سے مجبور ہو گئے ہیں۔آہستہ چھلتے ہیں۔آہستہ بات کرتے ہیں۔نہایت متین سنجیدہ اور تعلیم ہیں۔سب سے محبت سے پیش آتے ہیں۔سب کی خاطر کہ تے ہیں۔سب سے نوش ہو کر ملتے ہیں۔دہلی کی قدیم وضع کا مکان ہے جس میں پائیں باغی ہے۔پنشن لے لی ہے اور قادیان میں اطمینان کی زندگی گزار رہے ہیں۔۔جب تک میں قادیان میں رہا گویا میں دارات سلام میں رہا۔نہ تو موسم کی تیزی نے کوئی بڑا اثر کیا اور نہ میری بد پرہیزی نے میرا کچھ بگاڑا۔آپا صاحبہ (ام المومنین کا یہ وطیرہ رہا کہ علی الصبح مرے پاس پہنچ جاتیں اور دروازہ کو کھٹک کر اندر آجائیں۔سلام علیکم کرتیں اور باتیں شروع