تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 119 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 119

114 لیجئے صاحب! میں قادیان پہنچ گیا۔ڈاکٹر صاحب اور عرفانی صاحب نے اسٹیشن پر یہی گلے لگایا۔گلے ملتے اور باتیں کرتے ڈاکٹر صاحب کے ہاں پہنچے۔ہاتھ منہ دھویا۔چار اور تکلفات تو یہاں بھی بہت تھے مگر مجھے اپنی سلامتی کی ضرورت تھی محمود احمد صاحب عرفانی کو لے کر نکل گیا۔یہ وہ شہر ہے نہیں کا نام برسوں سے سُنتا آرہا تھا۔ہر مکان کو دیکھتا۔ہر مکین پر نظریں جھاتا ، بازار کو دیکھتا، اور دوکانداروں کو گھورتا ، اس شہر نما قصبہ میں گزرتا رہا۔قادیان کی وضع تو پنجاب کے اور قصبوں کی سی ہے مگر جماعت کے اتحاد، اتفاق اور تنظیم نے اس کو چار چاند لگا دیئے ہیں بڑے بڑے بنگله خانه باغ ، سٹرک مدر سے ، بورڈنگ ہاؤس ، اسپتال ، بازار اور ساہوکارہ ، برقی پریس، اطبار یونانی ، ویدک دواخانہ ، کارخانے جیسی چیزیں یہاں موجود ہیں۔یہاں کی آبادی میں حضر مسیح موعود کے خاندان کے افراد آباد ہیں، جماعت کے کارکن آباد ہیں۔وہ بھی آباد ہیں جو اعتقاد دایمان سے قربت چاہتے ہیں اور وہ بھی ہیں جو قربت حاصل کر چکے ہیں۔ایسے بھی ہیں جو ترک وطن کر کے آباد ہوئے ہیں۔ایسے بھی ہیں جو جماعت کی خاطر مقیم ہیں۔ایسے طالب علم بھی ہیں جو شوق تبلیغ میں علم حاصل کر رہے ہیں۔ایسے طالب علم بھی ہیں جو مدارس میں ابتدائی تعلیم کے لئے بورڈنگ میں ہیں جماعت کا ہر شعبہ ایک افسر کی نگرانی میں ہے اور اس افسر کا عملہ اور دفتر علیحدہ ہے۔تمام دنیا کے ڈاک خانوں سے یہاں ڈاک آتی ہے اور بجاتی ہے تار آتے ہیں اور بجاتے ہیں۔اس لئے قادیان کو قصبہ کہنا تو غلطی ہے۔اچھا خاصہ شہر ہے اور انشاء اللہ تعالے روز بروزہ اس میں ترقی ہی ہوگی کیونکہ جواں ہمت اور جواں عزم جماعت کا کر رہی ہے اور پابند ملت مسلمانوں کی بستی ہے جو بستے بستے بسی ہے۔عرفانی صاحب کے ساتھ میں جماعت کے مقامات دیکھتا، یادگاروں پر نظر ڈالتا قدیم 14 بستی میں آپا نصرت جہاں بیگم کے پاس پہنچا۔یہاں جماعت کی طرف سے مسلح پہرہ ہے۔اطلاع کرائی گئی اور زنانہ میں بلا لیا گیا۔آپا نے بڑھ کر مجھے اپنے کمرہ میں لیا اور نہایت کمار نی آواز سے سلام علیکم کہا۔مزاج پوچھا بخیریت دریافت کی۔حالات پوچھے۔گذرے ہوؤں کا ذکر کیا۔زندوں کو دعادی عزیزوں کو نام بنام دریافت کیا اور پھر حاضر ہونے کے وعدہ پر میاں بشیر الدین محمود احمد صاحب سے ملنے باہر چل دیا۔میاں مجھ سے ایک سال چھوٹے ہیں۔