تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 121 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 121

HA کر دیتیں۔میں لحاف اوڑھے پلنگ پر بیٹھا ہوتا اور شہل ٹہل کر باتیں کرتی جائیں۔آواز میں کرانہ چنا باقی ہے۔ہاتھ پاؤں تندرست اور سیدھے ہیں۔آنکھیں کام دیتی ہیں۔فوسی میں تو نائی اور سیتی معلوم ہوتی ہے اور بات کو معقولیت سے گنتی ہیں اور معقولیت سے جواب رہتی ہیں۔زندگی کے ہر شعیہ ہے۔گفتگو کر تی ہیں اور بے دھڑک خیالات کا اظہار کرتی ہیں۔پان کا زیادہ شوق ہے۔باتیں کرتی جاتیں ہیں اور پان کھاتی جاتی ہیں۔دلّی والوں کا سا لباس ہے۔اُونی پانتا بہ پہن کر گرم رنگین تنگ موری پاجامہ پہنتی ہیں۔گرم اُونی گرتہ پر سویٹر پہن کہ کشمیری شال سر سے اس طرح اوڑھتی ہیں کہ سر بھی ڈھک جاتا ہے اور مغلہ بھی معلوم ہوتا ہے۔اوور کوٹ پہن کر ان سب کو ایک جگہ کر لیتی ہیں۔ایک ہاتھ میں تسبیح اور ایک میں دستانہ ہوتا ہے۔علی الصبح بعد نماز گھر سے نکلتی ہیں۔پہلے عزیزوں کے ہاں ، دوستوں کے ہاں، اخلاص ، سندوں اور معتقدوں کے ہاں بھاتی ہیں۔اس میں مزاج پرسی ، دریافت حال عیادت اور تیمار واری سب ہی کچھ ہوتا ہے۔کہیں بچوں کا علاج کرتی ہیں اور کہیں بڑوں کی مزاج پرسی ، کسی جگہ دوا بتاتی ہیں اور کہیں دوا خود تیار کر کے دیتی ہیں۔دلّی کی بڑی بوڑھی بیگمات کا یہ طریقہ تھا کہ بچوں کے درو دکھ کا علاج گھر کی بڑی بوڑھی بیگمیں کیا کرتی تھیں۔وہی آیا صاحبہ کا طریقہ کا ر ہے۔اور اس علاج معالجہ میں ان کو اچھی دستگاہ۔ہے چھوٹے چھوٹے چکنے بچوں کے معمولی امراض میں بہت مفید ہوتے ہیں۔دس گیارہ بجے تک وہ اپنی اس مصروفیت سے فارغ ہو کہ گھر پہنچے جھاتی ہیں۔دوپہر کا کھانا کھا کر آرام کرتی ہیں۔ظہر اور عصر کی نماز تک گھر میں بہو بیٹیوں سے ملتی رہتی ہیں اور شام کو پھر چہل قدمی کو نکل جاتی ہیں۔اس پروگرام کی وہ حتی المقدور پابندی کرتی ہیں۔اس وقت ان کی عمر ( ۵ ) سال ہے مگر موردہ میں جوان ہیں عمل میں جوان ہیں۔اپنے عرسم میں جوان ہیں۔ایک بارعب کمانڈر کی طرح قادیان کی آبادی پر اثرہ ہے۔جس طرح خلوص اور محبت سے ملتی ہیں۔اسی طرح رعب اور اثر سے کام لیتی ہیں۔ان امور میں اُن کو دلچسپی ہے اور اسی کو انہوں نے اپنا شغل بنا رکھا ہے۔جس طرح کنبہ کو اُن کی ضرورت ہے۔اسی طرح قادیان کی سه اصل بیان میں والدین کے درمیان کوئی لفظ نہیں تھا۔مگر چونکہ حضرت ام المومنین کی ولادت ا اد میں ہوئی اس لیے یہاں مرتب کی طرف سے معین عمر لکھ دی گئی ہے ؟