تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 118
۱۱۵ اپنے ہو گئے اور اپنے بیگانے کنبہ کے بہت سے لوگ نئی پیدا وار کے ہیں۔یہ نہ بھانتے ہیں نہ پہچانتے ہیں۔اور ان باتوں کا موقع بھی نہیں ملتا۔دہلی کا کنبہ ہندوستان کے بھاروں کھونٹوں میں آباد ہو گیا ہے۔ہر شخص نے اپنا نیا گنبد بنا لیا ہے اور نئی جنت بنا ڈالی ہے۔میں بھی اپنی دنیا میں بہر حال آباد ہوں۔اسی طرح قادیان میں ایک کنبہ آباد ہے بجو لوگ جانتے ہیں وہ جانتے ہیں۔زندگی میں دو چار دفعہ ملتا ہو گیا ہے۔ہم ختم ہوئے اور کتبہ داری کی زنجیر ٹوٹی شہر سے کی کسی ٹپنی میں ہمارا بھی نام لٹکا ہوگا۔گرچہ بسے گذشت که نوشیروان نماند۔اکثر دل چاہتا تھا کہ قادیان جاؤں اور ایک دفعہ تو مل آؤں مگر دہلی تک بجا کر اتنی دلچسپیاں بڑھ جاتی تھیں کہ رخصت کا مختصر زمانہ وہلی کی جنت میں ختم ہو جاتا اور قادیان جانے کی نوبت نہ آتی۔تمنا تو ہمیشہ رہی مگر کبھی شرمندہ تعمیل نہ ہوئی۔بالکل اتفاق تھا کہ نہ میں حضرت میاں محمود احمد صاحب حیدر آباد تشریف لائے اور عزیزوں سے ملنے کا انہوں نے خاص انتظام کیا۔دیدہ اور باز دید ملاقاتوں میں تجدید محبت ہوئی۔یا یوں کہئے کہ بچھڑے ہوئے اپنی زندگی میں پھر ہے۔حیدر آباد کی یہ ملاقاتیں میرے قدیم خیال کو تقویت پہنچانے لگیں بن شاہ میں کلکتہ گیا تو جنگ کی وجہ سے بازاروں میں سرد بازاری پائی اور طبیعت نے قرار نہ لیا۔اور قادیان کے ارادہ سے کلکتہ سے وہی پہنچا۔اور دہلی سے قادیان۔قادیان اور جماعت احمدیہ کی جو تصویر میں نے ذہن میں تیار کی تھی، وہ اس کے بعد و محال تازہ کرنا چاہتا تھا کہ علی الصبح گاڑی بدلنے کے لئے امرتسر کے اسٹیشن پر اترنا پڑا۔پلیٹ فارم پر پہنچا تو معلوم ہوا کہ بہت سے مسافر قادیان کا اردو رکھتے ہیں۔نماز اور ضروریات سے فارغ ہو کہ ایک دوسرے کا پرسان حال ہوا چنانچہ میرا تعارف بھی بہت سے اشخاص سے ہوا۔اور کرایا گیا۔ناشتہ کے لئے کئی اصحا نے مجبور کیا۔۔۔بعض احباب نے تو اتنا کھلایا کہ میں نے اُن کے دستر خوان پر سے اُٹھنے پر اللہ کا شکر ادا کیا۔کھانا وہ لوگ کھا رہے تھے اور میں ہاضمہ کی دوا اور ہیضہ کے انسداد پر خور کو رہا تھا۔گاڑی جب بٹالہ پہنچی تو چار میں مجھے شریک ہونا پڑا۔تواضع اور اخلاق کی مشین گن نے ایک پیالی چھار کی گنجائش نکال ہی لی اور قہر درویش بر جان در ولیش شکریہ کے ساتھ چار پی۔بٹالہ سے گاڑی بدل کر قادیان جانے والی گاڑی میں سوار ہو گئے۔