تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 117 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 117

۱۱۴ ہوں یا ہندو یا سکھ۔ان کو اس بات کا خیال رکھنا چاہئیے کہ جب کسی غیر زراعت پیشہ سکھ کی طرف سے پراپیگنڈہ کیا جارہا ہے تو اس کا کیا مطلب ہو سکتا ہے۔اس ضمن میں اس امر کا بھی ذکر کرنا مناسب سمجھتا ہوں کہ نشانہ میں اس علاقہ میں زمینداروں نے اپنے حقوق کی حفاظت کے لئے ایک کمیٹی بنائی تھی جس میں علاقہ کے معززہ ہندو سکھ اور مسلمان نہینڈر شامل تھے۔ان لوگوں نے بالاتفاق مجھے صدر منتخب کیا تھا اور اس کے متعدد اجلاس موضع بگول۔قادیان اور دیگر مقامات پر ہوئے۔اس کمیٹی کی اغراض میں یہ بھی تھا کہ زمینداروں کو ساہوکاروں سے اور رشوت خور افسروں سے بچایا جائے۔نیز زمینداروں کی فلاح وبہبود کے لئے جو توانین پاس کئے گئے ہیں ان کی وضاحت مقصود تھی تا زمیندار اُن سے کما حقہ فائدہ اُٹھا سکیں۔ایک ساہوکار نے اڑتیں ساله گردی ناموں کو واپس کر کے بعض بیوقوف زمینداروں سے ہیں سالہ یا دس سالہ مستاجری لکھوانی شروع کر دی تھی۔ان جلسوں میں زمینداروں کو بتایا گیا کہ وہ ساہوکاروں کے اس قسم کے سہتھکنڈوں سے بچیں۔انہی دنوں اسی ساہوکانہ کی سازش سے میرے خلاف ایک غیر زراعت پیشہ تھانیدار کے زمانے میں ایک خود غرض اور پولیس کے اتھ میں کھیلنے والے زمیندار سے رپوڑ میں لکھوائی گئیں اور مجھے بدنام کرنے کی کوشش کی گئی " سے مرزا سلیم بیگ صاحب بکارکن اعلی ہائیکورٹ مزا سلیم بیگ صاحب کے داد مرزا عبدالقادر یا مطلب اور حضرت ام المومنین کی نانی اماں محترم حضر قادری بیگم حیدر آباد دکن و سیاح بلاد اسلامی ادیان ماہ دونوں حقیقی بھائی ہی تھے۔ان خاندانی تعلقت صاحبہ کی تجدید مرزا سلیم بیگ صاحب کو دوبارہ فتح / دسمبر و پیش میں قادیان سے آئی۔مرزا سلیم بیگ صاحب کی آنکھ نے مرکز احمدیت میں کیا دیکھا ؟ اس کی تفصیل خود ان کے قلم سے لکھی جاتی ہے۔فرماتے ہیں :۔لعہ کی بات ہے جبکہ میں دہلی میں میاں بشیر الدین محمود احمد (خلیفہ اسیح، اور آیا نصرت جہاں بیگم (ام المومنین سے ملا تھا۔عرصہ تک پھر ملنا نہیں ہوا۔حالانکہ ڈاکٹر محمد المغصیل صاحب سے بارہا دہلی میں ملتا جلتا رہا حیدر آباد کی ملازمت نے وطن سے دور کر دیا۔بیگانے ن الفضل ۱۹ صلح / جنوری ۱۳۳۳ پیش صفحه ۴ کالم اس ۱۹۴۴ء