تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 83
AN انجام دیا کرتے تھے۔لیکن صلح جنوری یہ مہش سے مجلس کا مرکزی دفتر فی الحال گیسٹ ہاؤس دارالا نوار کے ایک مغربی کمرہ میں قائم کیا گیا اور ساتھ ہی ایک کلرک کی اسامی ہمیں روپیہ مشاہرہ پر منظور کی گئی جس پر شیخ عبدالرحیم حصت تو مسلم شہر کا ہی مقرر کئے گئے بلے " ابتدائی تین سالوں میں دفتر مرکز یہ انصاراللہ کے لئے اپنا کوئی سامان فرنیچر وغیرہ نہیں تھا۔" مجلس تعلیم اور ترجمۃ القرآن کے دفتر کا فرنیچر مستعار لے کیا استعمال کیا جاتا تھا۔لیکن ہر ہجرت مٹی یہ مہش کو ایک درمیانی نیز، چار کرسیاں اور ایک پنچ خریدنے کے لئے مبلغ ساٹھ روپیہ کی منظوری دی گئی۔اسی روز فیصلہ ہوا کہ مرکزی دفتر گیسٹ ہاؤس سے شہر میں منتقل کر دیا جائے۔۲۰ فتح / دسمبر ۳۳ میش کو قرار پایا کہ مجلس مرکزیہ کا مستقل دفتر تعمیر کیا جائے اور اخراجات کے لئے پندرہ ہزار روپیہ کا تخمینہ لگایا گیا۔تعمیر دفتر کے علاوہ نشر و اشاعت کی مضبوطی کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ان ہر دو کاموں کے لئے معلی انصار اللہ مرکزیہ نے قائد مال ر حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب کو عطیات کی ذرائی کا اختیار دیا گیا۔چنا پر سالانہ اجتماع ۱۳۲۳ میں پر اس چندہ کی تحریک کی گئی۔نیز ایک سب کمیٹی بھی مقرر کی گئی جس کے صدر ماسٹر خیر الدین صاحب (نائب ناظر تعلیم و تربیت سگرٹی منشی محمد الدین صاحب مختار عام ، نائب سیکرٹری مولوی غلط محمد صاحب ہیڈ کلرک دفتر بہشتی مقبرہ اور ممبر باب فضل دین صاحب ریڈر ہائیکورٹ اور بابو قاسم دین صاحب گورداسپور تھے۔۱۳۳۴ ہمیشہ میں سہر دو مدات میں صرف ۱۴۷۶ روپے وصول ہو سکے۔ان دنوں مجلس کی مالی حالت نہایت درجہ مخدوش تھی، بجس کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہمیش میں مجلس کو چندہ کی آمد صرف مبلغ آٹھ د یو روپے ایک آنہ چھ پائی ہوئی سکھے ابتدا میں حضرت خلیفتہ اسیح الثانی مین کے ارشاد بلکہ نامزدگی پر مرکزی سیکرٹریوں کو شعبوں کی تفویضی مجلس انصار اللہ کے تین مرکزی سکریٹری مقرر تھے جن کے سپرد لے حضرت شیخ صاحب کا اصل وطن قصبہ نوریاست پٹیالہ تھا۔پیدائش ء میں ہوئی۔وسط شام میں حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کے دست مبارک پر بیعیت کا شرف حاصل کیا۔۲۶ دسمبر نشانہ کو مستقل طور پر اجرت کر کے قادیان آگئے۔مولوی عبد الکریم صاحب شر کا مبلغ مشرقی افریقہ آپ ہی کے مخلف الرشید ہیں۔" اصحاب احمد جلد دہم صفحه ۷۱ تا ۶۹ مرتبہ ملک صلاح الدین صاحب ایم اے) ہیں آپ کے خود نوشت حالات شائع شدہ نہیں ؟ له الفضل در صلح جنوری همایش صفحه ۵ کالم " الفضل"۔+