تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 82
M چنیل پور (سی پی )۔چاہ ڈیڈی (ضلع سمرا ) - لودھراں (ضلع ملتان) - چاه قادر نہ موضع بھی اللہ مجلس انصار اللہ نے اپنے قیام کے ابتدائی دو ڈھائی سال خدام الاحمدیہ کے مختلف جماعتی کاموں مثلاً ہفتہ تعلیم و تلقین، وقاد عمل اور امتحان کتب مسیح موعود میں اشتراک عمل کی طرف خاص توجہ دی مگر خدام الاحمر کے مقابل اس کی تنظیمی سرگرمیوں کی رفتار نہایت غیر تسلی بخش اور سست رہی۔چنانچہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے سالانہ مجلہ پیش کے موقعہ پر ارشاد فرمایا :- ۱۳۲۱ :- " مجھے افسوس ہے کہ احباب جماعت نے تاحال انصار اللہ کی تنظیم میں وہ کوشش نہیں کی جو کرنی پہنچے تھی۔اس کی ایک وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ اس کا ابھی کوئی دفتر و غیرہ بھی نہیں۔مگر دفتر قائم کرنا کس کا کام تھا بے شک اس کے لئے سرمایہ کی ضرورت تھی۔نگر سرمایہ مہیا کرنے سے انہیں کس نے روکا تھا شاید وہ کہیں کہ خدام الاحمدیہ کو تحریک جدید سے مدد دی گئی ہے۔مگر ان کی مدد سے ہم نے کب انکار کیا۔ان کو بھی چاہئے تھا کہ دفتر بناتے اور چندہ جمع کرتے۔اب بھی انہیں بچاہیئے کہ دفتر بنائیں کلارک وغیرہ رکھیں۔بخط و کتابت کریں۔ساری جماعتوں میں تحریک کر کے انصار اللہ کی مجالس قائم کریں اور چالیس سال سے زیادہ عمر کے سب دوستوں کی تنظیم کریں" سے مجلس انصار اللہ کا دوسرا دور ہ ہمیش سے مجلس انصاراللہ کی تحریک دوسرے دور میں داخل ہوئی جبکہ با قاعده مرکزی دفتر قائم ہوا۔مقامی سکرٹریوں کو مستقل شعبے سپرد کئے گئے۔سالانہ بجٹ تجویز ہوا۔دستور اساسی مرتب کیا گیا۔مرکزی قائدین کا تقر عمل میں لایا گیا۔مجلس کے آنریری انسپکٹر ، آڈیٹر اور نمائیندگان مشاورت منتخب کئے گئے۔سالانہ اجتماعات کا آغاز ہوا۔اور انصار اللہ کے ارکان قادیانی اور بیرونی مقامات پر تبلیغی سرگرمیوں کی طرف پہلے سے زیادہ توجہ دینے لگے۔مرکزی دفتر کا قیام اب تک مجلس الا اللہ کوئی مرکزی در نہیں تھا۔صدر میں حضرت مولنا شرلی صاحب اور دوسرے تین مرکزی عہدیدار جو مرکزی سیکر ٹری کہلاتے تھے ، مسجد مبارک میں جمع ہوتے اور مجلس کی تنظیم اور دوسرے امور کے بارہ میں باہمی مشورہ کرتے اور کاروائی باقاعدہ ایک رجسر میں محفوظ کرلی جاتی۔دفتری نوعیت کے کام مجلس کے آزیری کارکن شیخ عبدالرحیم صاحب شر ما د نومسلم سابق کش اعل) الفضل ۲ شهادت / اپریل ۳۳ مش صفحه 4 1991 Irte الفضل حكم امان / مارح مش صفحه ۲ کالم ۲ : یہ رجسٹر اب تک مجلس انصار الله م کر یہ ربوہ کے ریکارڈ میں موجود ہے۔