تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 586 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 586

۵۶۳ دیکھا۔تو ایک جھونپڑی سی نظر آئی جو بعد میںمعلوم ہوا کہ دوکان ہے۔میں نے دل میں دعا کی کہ وہاں تک ہی پہنچ جائیں۔شاید وہاں سے کوئی صورت پیدا ہو سکے۔میں نے ڈھائی کہ یا الہی یہ حالت ہے۔ہم تو چل بھی سکتے ہیں۔باہر بھی موسکتے ہیں مگر ساتھ پردہ وارمستورات ہیں۔توکوئی صورت پیدا کر دی ہے۔اس سامنے کے مکان تک پہونچ جائیں۔اتنے میں موٹر میں اصلاح ہوگئی اور وہ پھل پڑی اور ہم دل میں بہت خوش ہوئے۔لیکن نہیں اس دوکان کے سامنے جا کر دو پھر کھڑی ہوگئی۔جن تک پہنچنے کیلئے میں نے دعا کی تھی میں نے ساتھیوں سے کہا کہ دیکھو خدا تعالیٰ نے کسی طرح عین اس جگہ لاکر کھڑا کردیا ہے۔جہاں کے متعلق میں نے دل میں دعا کی تھی۔یہ عجیب بات ہے کہ ہماری موٹر جا کہ ایسی جگہ کی کہ جو اس دوکان کے درواندہ کے دونوں سیرون کے عین درمیان تھی۔نہ ایک فٹ اور ہر نہ ایک فٹ اُدھر۔ساتھ ہی اللہ تعالی نے یہ سامان بھی کر دیا۔کہ وہاں ہم نے دیکھا۔کہ ایک لاری بھی کھڑی ہے۔حالانکہ وہ جنگل تھا۔ہم نے دریافت کیا تو نادی والے نے بتایا کہ ہم پر قدم رہے اور جواہد ہی کیلئے اس کے پاس جارہے ہیں۔مالک گاؤں میں گیا ہوا ہے۔اوردہ اس کا منتظر ہے۔ہم نے اسے کچھ امید دلائی اور کچھ لالچ دیا کہ اگر ہماری مو ٹھیک نہ ہو۔تو داری کیساتھ باندھ کر ہمیں گر پہنچا دے۔یا کم سے کم کسی قصبہ تک جہاں موٹر ٹھیک ہو سکے۔اور اگر ٹھیک ہو جائے تو اختیاط ساتھ پہلے۔کہ پھر موٹر کے دوبارہ خراب ہونے کی صورت میں ہماری بدو کر رہے۔اقول تو وہ نہ مانا۔لیکن قریباً ایک گھنٹہ تک مرمت کرنے کے بعد جب موٹر درست ہوا۔تو وہ ڈرائیور بھی ساتھ چلنے پر رضامند ہو گیا۔وہ علاقہ کچھ میدانی تھا۔اور چڑھائی کم تھی۔لیکن جب ہم اسجگہ پہنچے۔جہاں سے دھرم سالہ کی پڑھائی شروع ہوتی ہے۔اور تیرہ میل سفر باقی رہ گیا۔تو سنی آگے جانے سے انکار کر دیا ہم نے اسے بہت امید دلائی۔انعام کالا نے دیا۔بالک کی ناراضگی کی صورت میں اسکی پاس سفارش کرنے کو کہا۔مگر وہ آمادہ نہ ہوا۔وہ کہنے لگا۔کہ آپ کی موٹر ٹھیک چل رہی ہے۔اب کیا حرج ہے۔آپ اکیلے پچھلے جائیں۔میں نے پھر دعا کی کہ یا الہی پر جنگل کا جنگل ہی رہا۔رات کا وقت تھا۔اور اگر موٹر خراب ہو گئی۔تو دور کر سواری ملنے کی امید بھی نہیں کیونکہ وہاں رات کے وقت موروں اور لاریوں کا چلنا منع ہے۔میں نے دعا کی۔اور میرے یہی الفاظ تھے۔کہ اب انسانی عدت ختم ہو گئی۔اپنے ہی اپنے فضا انتظام فرا یہ وڈا کر کے میں سوار ہونے کا اشار کیا، قریب کی جو وہاں کو رد مراسلہ بھی جو اس میں تھی جہاں اور ٹھیک چلتی رہی بیٹے کو ھر مسالہ پہونچے تومیں نے طره رزم مرزا مظفر احمد صاحب سے جو میرے ساتھ تھے۔کہا کہ چلو دیکھیں شاید کوئی دوسری موٹر مل جائے۔تو