تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 584
۵۶۱ ر بھی طاقت حاصل نہ سلام اس صورت میں ہی مالدباب رک آسوکا کھنکار شاستے چمبہ ایک چھوٹی سی پہاڑی ریاست ہے جو ریاست جموں کے جنوب مغرب مسلمانان میبہ پر مظالم میں واقع ہے۔اس ریاست میں بند لوگ بھاری اکثریت میں آباد تھے۔اور کے خلاف احتجاج مسلمانوں کی آبادی سات فیصدی کے قریب تھی جو اہل کشمیر کی طرح ہمیشہ غیر زراعت پیشہ متصور ہوتے تھے اور وہ خاص اجازت کے سوا ) جو عام طور پر نہیں دی جاتی تھی زمین خریدنے کے بھی مجاز نہیں تھے۔حتی کہ مسلمان کسی مسلمان سے بھی سرکاری اجازت نامہ کے بغیر زمین کی خرید و فروخت نہیں کر سکتے تھے اور ہندو سے زمین کا مل جانا تو قریباً ناممکن تھا۔اس کے بر ٹیکس ہند ولو گہ مسلمانوں سے قانونا خرید سکتے تھے۔اور اس کیلئے کسی اجازت کی ضرورت نہیں تھی۔ایک اور پابندی یہ تھی کہ حد دریاست میں کوئی شخص قبول اسلام نہیں کر سکتا تھا۔حد یہ ہے کہ جہاں ہرا چھوت کیلئے ہندو دھرم قبول کرنے یا عیسائی بنے کے دروازے ہر وقت کھلے تھے مگر اسے حدود ریاست میں اسلام لانے کی اجازت نہ تھی۔غرضیکہ غریب مسلمان ظلم وستم کا نشانہ بنے ہوئے تھے۔اور خصوصا احمدیان جمبہ کہ بہت تکالیف پہنچائی جا رہی تھیں۔سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی خدمت میں یہ حالات پہنچے تو حضور نے چوہدری غلام احمد صاحب بی۔ہے۔ایل ایل بی مشیر قانونی اور مولودی ظہور الحسن صاحب فاضل کو پہیہ بھجوا یا یہ دور باشندگان جہیہ کو مشورہ دیا کہ وہ ریذیڈنٹ کو اپنی شکایات و مطالبات بھجوائیں اور خاص طور پر مندرجہ ذیل مطالبات اس میں شامل کریں کہ ا شہر تمیہ میں میونسپل کمیٹی قائم کی جائے۔-- زمینداروں کو زمین کا مالک قرار دیا جائے۔زمینداروں کو ان کی زمین پر سیاست درخت کاٹنے اور فرقت کرنے کی اجازت دی ہے۔سیاسی قیدی شیخ غلام نبی صاحب کو رہا کیا جائے۔۵- ایک غیر جانبدار تحقیقاتی کمیٹی جس میں غیرسہ کاری میروں کی اکثریت ہو قائم کی جائے جو رعایا کی شکایات شنکر اُن کے تدارک کیلئے تجاویز پیش کرے۔ے۔رپورٹ سالانہ صدر انجمن احدید است ۳۹ مراد ہے