تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 563
صاحبزادہ مرزا سعید احمد صاب صاحبزاده مرا سید احمد مرحوم حضر مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پڑپوتے اور حضرت صاحبزادہ مرزا عزیز احمد صاحب کے بہت معید الفطرت، شریف مراج کی وفات کا المناک حادثہ ہوشیار اور ہو نہار فرزند تھے۔آپ پر ستمبر ۱۹۳۳ء کو حضرت صاحبزادہ مرا ناصر احمد صاحب کی رفاقت میں اعلیٰ تعلیم کے لئے انگلستان گئے جہاں انہوں نے سٹار میں لنڈن یونیورسٹی سے بی۔اے کی سند حاصل کرنے کے علاوہ آئی سی۔ایس کا امتحان بھی دیا اور اچھے نمبروں پر پاس ہو گئے۔بعد ازاں بیرسٹری کے متعدد متخانات پاس کئے مگر عمر نے وفا نہ کی اور آپ لندن میں ہیں جنوری شیر کی درمیانی شب کو انتقال کرگئے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ مرا سعید احمد صاحب کی تشویش ناک علالت کی اطلاع ملنے پر حضرت صاحبزادہ مرزا عزیزاحمد صاحب زیادہ ہوائی جہا ار خودی شاہ کو لندن پہنچے اور ہسپتال میں اپنے لخت جگر کے پاس تشریف لے گئے۔مرزا سعید احمد صاحب پر غنودگی سی طاری تھی۔اسی حالت میں انہوں نے اپنے پیارے ابا جان کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر چوما اور کہا۔ابا جی فکر نہ کرنا ہیں یہی آخری الفاظ تھے پہلے مرحوم کا تابوت در فروری ۱۹۳۷ء کو صور آٹھ بجے شب کی گاڑی سے قلیان پہنچا۔اگلے رو پونے دس بجے صبح کے قریب حضرت امیرالمومنین خلیفتہ السیح الثانی نے بورڈنگ مدرسہ احمدیہ کے وسیع صحن میں نماز جنازہ پڑھائی اور مرحوم بچوں کے قبرستان کے محقہ قلعہ میں سپرد خاک کر دیئے گئے ، اللهم الدخلاء في جنات النعيم - حضرت امیر المومنین کا خطاب | صور قیدی شاہ کو احمدیہ انٹرکا بیسٹ ایسوسی ایشن کے چینی فروری طلباء قادیان آئے۔اس موقعہ پر ایسوسی ایشن مختلف کالجوں احمدیہ انٹر کالجیٹ ایسوسی ایشن کو کے کے غیر احمدی طلبہ کو بھی ساتھ لائی۔چار فروری کو اس تنظیم کی ٹیموں نے کرکیٹ سو فٹ بال کے میچ کھیلے۔اور ضروری ۱۹۳۰ء کو حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے ان کو ایک خطاب فرمایا جوتین گفتٹہ تک جاری رہا۔یہ وفداسی روز شام کی گاڑی واپس لاہور چلا گیا۔ان دنوں اس ایسوسی ایشن کے سیکریڑی صاحبزادہ مرزا منور احمد صاحب تھے بیٹے ے مرحوم کے تفصیلی حالات فردا بیا حضرت مرزا بشیر صد صاحب اور مامان را با رایا اور اپنے قلم سے کیا کرتے تھے جو ✓ فضل و در جنیدی دوره ارفروری میں شائع شدہ ہیں۔اگریہ وسلم مل جل کے تاثرات کیلئے ملاحظہ ہو افضل صدر اور شم اور مست الفضل ۲۵۰ر جنوری ما کالم له الفضل دار فروری ۳ ۱۳ الفضیل در فروری ۱۹۳ در صفحه ۲ کالم را