تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 562 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 562

۵۴۱ سکھ قوم میں سے تھا اس لئے اس نے اپنی تحقیق کے ماتحت بابا نانک کو مسلمان لکھ دیا۔ہم ان کی تحقیق پر تنقید نہیں کرتے صرف اتنا کہتے ہیں کہ انہوں نے جو کچھ لکھا ہے وہ در اصل مرزا صاحب کی تصنیفات پر سینی ہے۔عرصہ ہوا مرزا صاحب قادیانی نے بصورت رسالہ ست بچن " یہی آواز اٹھائی تھی۔مرزا صاحب سے جو کچھ بن پڑا انہوں نے اپنے ھوٹی پر اس رسالے میں دلائل دیئے ہیں جن کو آپ گورو نانک جی کے مسلمان ہونے کے ثبوت میں کافی سمجھتے تھے۔اس وقت حکومت کی طرف سے اُن کو کوئی باز پرس نہیں ہوئی اور نہ وہ کتاب ضبطہ ہوئی۔اب جو رسالہ دین دھرم شائع ہوا تو مصنف مذکور پر مقدمہ چلایا گیا جس کے میجر یں مصنف مذکور کو چھ ماہ قید سخت اور شور روپیہ جرمانہ ہوا۔یہ بات ہماری سمجھ سے بالا تر ہے کہ گورنمنٹ نے مصنف مذکور پر مقدمہ کیوں چلایا۔ایک تو یہ کہ اس مضمون کہیے اصل موجد مرزا صا حب قادیانی تھے جن سے کوئی تعرض نہیں کیا گیا۔دوسری بات یہ ہے کہ مصنف مذکور نے بابا نانک جی کی ہتک نہیں کی بلکہ اپنے عندیہ میں اُن کی بڑی عزت کی ہے کیو نکہ اُن کے نزدیک اسلام ایک معزز مذہب ہے۔اس کی تائیدیں ہم ایک اقتباس آرید مسافران ہور سے نقل کر کے گورنمنٹ کے سامنے رکھتے ہیں جو یہ ہے :۔حضرت محمد صاحب نے آریہ برہم چاریوں کی طرح جو میں سال کی عمر میں شادی کی x x حضرت صاحب کا جیون (سوانح عمری، آریہ برہمنوں کی مانند نہایت سادہ اور فقیرانہ تھا۔" کیا گورنمنٹ ایسا لکھنے والے پر بھی مقدمہ چلائے گی ؟ جہاں تک ہمارا خیال ہے۔نہیں تو پھر اس میں۔اور اُس میں کیا فرق ہے ؟ اس لئے ہم اس منا کو کسی صحیح قانون پر سنی نہیں مجھے۔امید ہے کہ محمکہ اہل اس پر غور کر کے ہمیں راہ راست دکھلا ئیگا۔۔یا است اس مقدمہ کی اپیل سشن حج صاحب گورداسپور کی عدالت میں دائر کی گئی بیس کی اپیل کا فیصلہ اور رہائی E فیصلہ آنا پارچ شیر کو سنا دیا گیا۔فاضل جج نے قید کی اسی قدر سزا کافی قرار دی تو حضرت ماسٹر صاحب بھگت چکے تھے اور جا نہ ھو کی جائے پچاس روپے کر دیا۔چنانچہ جرمانہ کی روانگی کے بعد آپ رہا کر دیئے گئے اور ۲۲ مارچ شہر کو تازیان تشریف نے آئے ہیں حضرت مالٹر صاحہ نے امیری کا زمانہ کس قدر میرا استقلال اور جوش ایمانی کے رنگ میں گذارا اس کا اندازہ ایسے بخوبی لگ سکتا ہے کہ انہوں نے اپنے ایک بیٹے کو جو طاقت کیلئے میانوالی میں گئے تھے یہ نام دیا اگر کسی احمدی کو میری تیار وہبند کے باعث اشتعال آئے تو وہ گور کبھی سیکھ کر تبلیغ احمدیت کرکے اپنا غصہ ٹھنڈا کرلے۔ے اہلحدیث ها کالم امور خد اور جنوری ۱۹۳۷ ۱ ۵۲ الفضیل در در ماه در مارچ الفضل ۲۴ مارچ ۱۹۳۸ صفحود کالم - ۱۹۳۸ بہ صفحہ بہ کالم ۳۰۳