تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 31 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 31

۲۷ مقامات پر وہ صب برطانیہ کے اثر کے نیچے ہیں۔دیگر حکومتوں سے ہمارا تعلق نہیں سوائے ڈچ حکومت کے مگر ڈچ بھی یورپین ہیں اور یورپینوں کا نقطہ نگاہ ایشیائی لوگوں کے بارہ میں جلدی نہیں بدلتا۔ہمیں ایسی حکومتوں سے بھی لگاؤ پیدا کرنا چاہیئے جن کی حکومت میں ہم شریک ہوں یا جو ہم پر حکومت کرنے کے باوجود ہمیں بھائی سمجھیں۔مشرقی خواہ حاکم ہو مگر وہ محکوم کو بھی اپنا بھائی سمجھے گا۔اسی طرح جنوبی امریکہ کے لوگ ہیں۔انہوں نے بھی چونکہ کبھی باہر حکومت نہیں کی اس لئے وہ بھی ایشیائی لوگوں کو اپنا بھائی سمجھتے ہیں۔پس اس سکیم میں میرے مد نظر ایک بات یہ بھی ہے کہ ہم باہر جائیں اور نئی حکومتوں سے بہمارے تعلقات پیدا ہوں تاکہ ہم کسی ایک ہی حکومت کے رحم پر نہ رہیں۔یوں تو ہم خدا تعالیٰ کے ہی رقم پر ہیں۔مگر جو حصہ تدبیر کا خدا نے مقدر کیا ہے اسے اختیار کرنا بھی ہمارا فرض ہے۔اس لئے ہمارے تعلقات اس قدر وسیع ہونے چاہئیں کہ کسی حکومت یا رعایا کے ہمارے متعلق خیالات میں تغیر کے باوجود بھی جماعت ترقی کر سکے" (11) گیارھویں بات یہ مد نظر ہے کہ آئندہ نسلیں بھی اس درد میں ہماری شریک ہوسکیں۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ ایک نعمت دی ہے کہ ہمارے دلوں میں درد پیدا کر دیا ہے۔گورنمنٹ نے جو ہماری بہتک کی۔احرار نے جو اذیت پہنچائی اس کا یہ فائدہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ذریعہ ہمارے دلوں میں درد کی نعمت پیدا کر دی اور وہی بات ہوئی جو مولانا روم نے فرمائی ہے کہ سر بلا کین قوم را حق داده است زیر آن گنج کرم بنهاده است یعنی ہر آفت جو مسلمانوں پر آتی ہے اس کے نیچے ایک خزانہ مخفی ہوتا ہے۔بس یقینا یہ بھی ایک خزانہ تھا۔جو خدا تعالیٰ نے ہمیں دیا کہ جماعت کو بیدار کر دیا اور جو لوگ شست اور غافل تھے ان کو بھی چوکنا کر دیا۔پس یہ ایک ایسا واقعہ تھا جو دنیوی نگاہ میں مصیبت تھا مگر خدا تعالیٰ کے نزدیک رحمت تھا۔اور میں نے نہیں چاہا کہ اس سے صرف موجودہ نسل ہی حصہ لے بلکہ یہ چاہا ہے کہ آئندہ نسلیں بھی اس سے حصہ پائیں اور میں نے اس سکیم کو ایسا رنگ دیا ہے کہ آئندہ نسلیں بھی اس طریق پر نہیں جو شیعوں نے اختیار کیا بلکہ عقل سے اور اعلی طریق پر جو خدا کے پاک بندے اختیار کرتے آئے ہیں اُسے یادر رکھ سکیں اور اُس سے فائدہ اٹھا سکیں۔