تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 32
اس کے علاوہ اور بھی فوائد مسکن ہے اس میں ہوں مگر یہ کم سے کم تھے جوئیں نے بیان کر دیتے ہیں۔یا یوں کہو کہ یہ سکیم کا وہ حصہ ہے جو خدا تعالٰی نے اپنے فضل سے مجھے بتایا۔تحریک تجدید جبری نہیں تحریک جدید میں شمولیت شروع ہی سے اختیاری تھی حضرت میر المومنین نے سب حالات جماعت کے سامنے رکھ دیئے اور ساتھ ہی اُن کا علاج بھی۔اور یہ اختیاری حکیم ہے نہیں رکھا کہ جو حصہ نہ لے اُسے سزا دی جائے بلکہ ترا اور ثواب کو خدا تعالیٰ پر ہی چھوڑ دیا تا جو حصہ لے اُسے زیادہ ثواب ملے۔اس اصول کے مطابق حضور نے کارکنان جماعت کو واضح ہدایات دیں کہ مردوں پہ زور نہ دیا جائے صرف وہی رقم بطور چندہ وصول کی جائے جو ہار جنوری ۶۳۵ یہ تک آجائے یا اُس کا وعدہ آ جائے۔نیز کارکنوں کو خاص طور پر تاکید فرمائی کہ روپیہ کی کمی کا فکر نہ کریں۔اللہ تعالیٰ جماعت کا امتحان کرنا چاہتا ہے۔وہ غیور ہے اور کسی کے مال کا محتاج نہیں بچنا نچہ چھوڑ نے واضح طریق پر فرمایا :- تحریک کو چلانے والے مندرجہ ذیل باتوں کو مد نظر رکھیں :- مردوں پر زور نہ دیا جائے (را) یہ کہ وہ صرف میری تجاویز کو لوگوں تک پہنچا دیں۔اس کے بعد مردوں پر اس میں شامل ہونے کے لئے زیادہ زور نہ دیں۔ہاں عورتوں تک خبر چونکہ مشکل سے پہنچتی ہے اور باہر کی مشکلات سے اُن کو آگاہی بھی کم ہوتی ہے۔اس لئے رسول کریم صلے اللہ علیہ و آلہ وسلم مردوں میں تو چند کے لئے صرف اعلان ہی کر دیتے تھے کہ کون ہے جو اپنا گھر جنت میں بنائے مگر عورتوں سے اصرار کے ساتھ وصول فرماتے تھے بلکہ فرداً فرداً اجتماع کے مواقع میں انہیں تحریک کرتے تھے۔ایک دفعہ ایک عورت نے ایک کٹا اُتار کو دے دیا تو آپ نے فرمایا دوسرا ہاتھ بھی دوزخ سے بچا۔پس عورتوں کے معاملہ میں اجازت ہے کہ اُن میں زیادہ زور کے ساتھ تحریک کی بجائے مگر مجبور انہیں بھی نہ کیا جائے اور مردوں پر تو زور بالکل نہ دیا جائے۔صرف ان تک میری تجاویزہ کو پہنچا دیا جائے اور جو اس میں شامل ہونے سے مدد کرے اُسے ترغیب نہ دی جائے کارکن تحریک مجھے دکھا کر اور اسے چھپوا کر کثرت سے شائع کرا دیں اور چونکہ ڈیکھن میں بعض اوقات چٹھیاں ضائع ہو جاتی ہیں اس لئے جہاں سے جواب نہ ملے دس پندرہ روزہ کے بعد پھر تحریک بھیج دیں اور پھر بھی جواب نہ آئے تو خاموش ہو جائیں۔اسی طرح بیرونی جماعتوں کے سکس وڈیویں کا فرض ہے کہ وہ میرے خطبات جماعت کو سُنا دیں جو جمع ہوں انہیں یکجا اور جو جمع نہ ہوں اُن کے الفضل د دسمبر من صفر ، تامه د خطبه جمعه فرموده ، دسمبر (ه) *