تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 515
۴۹۸ غرض ہمارے مبلغ جو خدمت دین کے لئے باہر جاتے ہیں ، اُن کا جماعت پر بہت بڑا حق ہے۔نادان ہے جماعت کا وہ حصہ جو ان کے حقوق کو نہیں سمجھتا۔یورپ کے لوگ ایسے لوگوں کو بیش بہا تنخواہیں دیتے اور اُن کیلئے ہر قسم کے آرام و آسائیش کے سامان مہیا کرتے ہیں۔جب ان کے ڈپلومیٹ یعنی سیاسی حکام اپنے ملکوں میں واپس آتے ہیں تو ملک ان کی تعریفوں میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیتا ہے۔فرانس کے AMBASSADOR کی تنخواہ وزیر اعظم کی تنخواہ سے زیادہ ہوتی ہے۔مگر جب وہ اپنے ملک میں آتا ہے تو اہل ملک اُس کی قربانیوں کی اس قدر تعریف کرتے ہیں اور اس کے اس قدر ممنون ہوتے ہیں کہ گویا وہ فاقے کرتا رہا ہے اور بڑی مشکلات برداشت کرنے کے بعد واپس آیا ہے۔اور دور جانے کی کیا ضرورت ہے، ہندوستان کے وائسران کو دیکھو کہ اس کے کھانے اور آرام و آسائش کے اخراجات خود گورنمنٹ برداشت کرتی ہے اور میں ہزار اور روپیہ ماہوار جیب خرچ کے طور پر اُسے ملتے ہیں۔وہ پانچ سال کا عرصہ ہندوستان میں گذارتا ہے۔اس عرصہ میں بارہ لاکھ روپیہ لے کر چلا جاتا ہے۔صرف لباس پر اس کو اپنا خرچ کرنا پڑتا ہے یا اگر کسی جگہ کوئی چندہ وغیرہ دیتا ہو تو دے دیتا ہے ورنہ باقی تمام اخراجات گورنمنٹ برداشت کرتی ہے لیکن با وجود اس کے جب وہ اپنے ملک کو واپس جاتا ہے تو اس کی قربانیوں کی تعریف میں ملک گونج اٹھتا ہے اور ہر دل جزیر تشکر ہنستان سے مصور ہوتا ہے۔اور یہ جذبہ ان میں اس قدر زیادہ ہوتاہے کہ گویا ان کے جذبات کا پیالہ پل کا ک چھلکا۔بھی رہے قومی ترقی کا جب کسی قوم میں کوئی فرد ایک عزیم لیکر کھڑا ہوتا ہے تواس کو یقین ہوتا ہے کہ میری قوم میری قدر کریگی۔بیشک دینی خدمتگذاروں کو اس کی پروانہیں ہوتی لیکن اگر اس کی قوم اس کی قربانیوں کی پروانہیں کرتی تو یہ اس قوم کی غلطی ہے۔بیشک ایک مومن کے دل میں یہ خیال پیدا نہیں ہوتا اور نہ ہونا چاہیئے اور پھر ایک ایسی قوم کا نمائندہ جو اپنے آپ کو نیک کہتی ہے وہ تو ان خیالات سے بالکل الگ ہوتا ہے۔اس کو صرف ہوتی ہی ذمہ داریوں کا احساس ہوتا ہے مگر اسلام نے جہاں فرد پر ذمہ واریاں رکھی ہیں، وہاں قوم پر بھی ذمہ واریاں رکھی ہیں جس طرح کسی فرد کا حق نہیں کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کی پروا نہ کرے اسی طرح قوم کا بھی حق نہیں کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کی پروا نہ کرے۔قوم کے فرد کو یہ حق حاصل نہیں کہ اس کے دل میں یہ خیال پیدا ہو کہ قوم نے میری قربانیوں کی پیدا نہیں کی۔اور اگر وہ یہ خیال اپنے دل میں لایا ہے تو دوسرے الفاظ میں وہ یہ کہتا ہے کہ میں نے تمہارے لئے یہ کام کیا ہے خدا تعالیٰ کے لئے نہیں کیا۔پس مرد کے i