تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 514
896 ولایت آنے والے قافلہ کے اعزاز میں اور ارشاد کو جامه احمدیه مدارس اتحادیه او تعلیم الاسلام ہائی سکول کے اساتذہ اور طلبہ نے ولایت سے آنے والے دعوت اور حضرت امیر المومنین کا خطاب قافلہ کو چائے کی دعوت دی جس میں حضرت خلیفہ مسیح الثانی نے ایک مسود تقریر رمائی اور احباب جماعت کو میلفین سلسلہ سے متعلق فرائض کی طرف توجہ دلانے کے علاوہ اپنی پیاری اولاد کو نہایت قیمتی نصائح فرمائیں چنانچہ حضور نے فرمایا :- مولوی شیر علی صاحب دو اڑھائی سال کام کرنے کے بعد واپس آئے ہیں۔مولوی صاحب ایسے کام کے لئے باہر بھیجے گئے تھے جو اس وقت جماعت کے لئے بہت ضروری ہے۔اس کام کا مشکل حقہ یعنی ترجمہ کا کام پورا ہوچکا ہے۔اب دوسرا کام نوٹوں کا ہے جو لکھے جارہے ہیں۔گذشتہ دنوں یورپ میں جنگ کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ مولوی صاحب کو واپس بلا لیا بجائے تاکہ وہ یہاں آکر کام کریں۔ایسا نہ ہو کہ سینگ کی صورت میں رستے بند ہو جائیں۔پس دوستوں کی بہترین دعوت تو یہ ہے کہ مولوی صاحب جلد سے جلد اس کام کو ختم کریں تاکہ یہ ایک ہی اعتراض جو مخالفین کی طرف سے جماعت پر کیا جاتا ہے کہ اس جماعت نے ابھی تک ایک بھی قرآن مجید کا انگریزی ترجمہ شائع نہیں کیا دُور ہو جائے اور ہماری انگریزی تفسیر شائع ہو جائے۔درد صاحب ایک لمبے عرصہ کے بعد واپس آئے ہیں۔۱۹۳۳ء کے شروع میں وہ گئے تھے اور اب شاہ کے آخر میں واپس آئے ہیں۔ان دو نو سالوں کا درمیانی فاصلہ پونے چھ سال کا بنتا ہے اور پونے چھ سال کا عرصہ انسانی زندگی میں بہت بڑے تغیرات پیدا کر دیتا ہے۔بعض دفعہ باپ کی عدم موجودگی میں اولاد کی تربیت میں نقص پیدا ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے اُن کے اخلاق پر بڑا اثر پڑ جاتا ہے۔بعض دفعہ گھر سے ایسی تشویشناک خبریں موصول ہوتی ہیں جو انسان کے لئے ناقابل برداشت ہوتی ہیں۔عام لوگ ان مشکلات کو نہیں سمجھتے ہو ایک مبلغ کو پیش آتی ہیں۔بسا اوقات مبلغ کو ایسی قربانیاں کرنی پڑتی ہیں جو عام لوگ نہیں کر سکتے۔بلکہ اکثر اوقات اُسے ایسی قربانیاں کرنی پڑتی ہیں تو دوسروں کے لئے ناممکن ہوتی ہیں۔سماعت کے کئی آدمی ان قربانیوں کی حقیقت کو نہیں سمجھتے۔اور وہ گھر میں بیٹھے بیٹھے اعتراض کر دیتے ہیں۔اگر وہ ان قربانیوں کی حقیقت کا اندازہ لگائیں تو وہ مبلغوں کے ممنون ہوں ،