تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 516 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 516

۴۹۹ دل کے کسی گوشے میں بھی یہ خیال نہیں ہونا چاہیئے اور نہ فیسکر کے کسی حصہ میں کہ قوم نے میری قربانیوں کی پروا نہیں کی یا جیسا کہ میری خدمت کرنے کا حق تھا وہ اس نے ادا نہیں کیا۔ایسا آدمی اپنے کئے کرائے پر پانی پھیر دیتا ہے۔مگر اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرد پر ذمہ داریاں عائد کی ہیں اسی طرح قوم پر بھی ذمہ داریاں رکھی ہیں اور وہ یہ کہ قوم اس فرد کی خدمات اور قربانیوں کی قدر کرے کیونکہ قوم بھی ویسے ہی اللہ تعالیٰ کے حضور جوابدہ ہے جیسے فرد " له 是 جماعت کو اُن کے فرائض منصبی کی طرف توجہ دلانے کے بعد صاحبزادگان کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا :- ہماری سب عزتیں احمدی ہونے کی وجہ سے ہیں اور کوئی امتیاز ہم میں نہیں بعض کا موں کی مجبوریوں کے لحاظ سے ایک افسر بنا دیا جاتا ہے اور دوسرا ما تحت دور نہ حقیقی امتیاز ہم میں کوئی نہیں۔حقیقی بڑائی خدمت کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان میں سے ہونا یا میرا بیٹا ہوتا یہ تو مانگا ہوا چوغہ ہے۔تمہارا فرض ہے کہ تم خود اپنے لئے لباس مہیا کرو۔وہ لباس جیسے قرآن مجید نے پیش کیا ہے یعنی لباس التقوى ذلِكَ خَيْر تقویٰ کا لباس سب لباسوں سے بہتر ہے۔اللہ تعالیٰ نے تمہارے گھر سے وہ آواز اُٹھائی جس کے سننے کے لئے تیرہ سو سال سے مسلمانوں کے کان ترس رہے تھے اور وہ فرشتے نازل ہوئے جن کے نزول کے لئے جیلانی استرالی، اور ابن العربی کے دل للچاتے رہے مگر اُن پر نازل نہ ہوئے۔گو بیشک یہ بہت بڑی عزت ہے مگر اس کو اپنی طرف منسوب کرنا صرف ایک طفیلی چیز ہے۔دنیا کے بادشاہوں کی اولاد اپنے باپ دادوں کی عریبکو کو اپنی عزت کہتے ہیں۔حالانکہ در اصل وہ اُن کے لئے عزت نہیں ہوتی بلکہ لعنت ہوتی ہے۔رسول کریم صلے تھے علیہ وسلم سے کسی نے پو چھا کہ کون لوگ زیادہ اشرف ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو تمہارے اندر اشرت ہیں بشرطیکہ ان میں تقوی ہو۔رسول کریم صل اللہ علیہ وسلمنے بھی پہلی قسم کی عزت کوتسلیم فرمایا ہے مگر حقیقی عزت رہتی تسلیم فرمائی ہے جس میں ذاتی جوہر بھی مل جائے۔پس تم اپنے اندر ذاتی جوہر سیدا کردو جماعت احمدیہ کے ہر فرد کا خیال رکھو۔خاندان حضرت مسیح ویو عليه الصلوۃ والسّلام کا فرد ہونے کی وجہ سے تمہیں کوئی امتیاز نہیں۔امتیاز خدمت کرنے میں ہے۔حضرت سیح موعود علیہ الصلوۃ والسّلام نے خدمت کی۔اللہ تعالیٰ نے آپ پر فضل نازل فرمایا تم بھی اگر الفضل را بیل و متحیر یم کالم ۱-۲-۳ :