تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 29 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 29

۲۵ جہات سے دشمن پر حملے کئے جائیں ہمارے کھلے ایک ہی محاذ پر محدود نہ ہوں بلکہ جیس طرح دفاع کے لئے ہم مختلف طریق اختیار کریں اسی طرح حملہ کے لئے بھی مختلف محاذ ہوں “ (۵) پانچویں بات یہ ہے کہ مغربیت کے بڑھتے ہوئے اثر کو جو دنیا کو کھائے جاتا ہے اور جو د بھال کے نظلیہ میں حملہ ہے اُسے دور کیا جائے۔۔۔۔اور یوں بیوں وہ زائل ہوتا جائے گا اسلام کی محبت اور اس کا دخل بڑھتا جائے گا۔اسی لئے میں نے ہاتھ سے کام کرنے اور ایک ہی سالن کھانے کی عادت ڈالنے کی ہدایت کی ہے۔یہ دونوں باتیں مغربیت کے خلاف ہیں“ (4) چھٹی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے کے لئے زیادہ جد و جہد کی جائے کیونکہ ہماری فتح اسی سے ہو سکتی ہے۔اسی لئے دُعا کرنا میں نے اپنی سکیم کا ایک چیزوں کا ہے اس کی غرض یہی ہے کہ ہماری تمام ترقیات اسی سے وابستہ ہیں اور جب ہمارے اندر سے غرور تیکل بجائے اس وقت اللہ تعالے کا فضل نازل ہو سکتا ہے۔اللہ تعالے کو یہی پسند ہے کہ امن کی بنیاد ایسے اصول پر قائم ہو کہ انسانیت کے لحاظ سے سب برابر ہوں۔اس سکیم میں میں نے یہ بات بھی مد نظر رکھی ہے کہ امیر و غریب کا بعد دُور ہو " (6) ساتویں بات اس سکیم میں میرے مد نظر یہ ہے کہ جماعت کے زیادہ سے زیادہ افراد کو تبلیغ کے لئے تیار کیا جائے۔پہلے سارے اس کے لئے تیار نہیں ہوتے اور جو ہوتے ہیں وہ ایسے رنگ میں ہوتے ہیں کہ مبلغ نہیں بن سکتے۔اول تو عام طور پر سہاری سماعت میں تبلیغ کا انحصار مبلغوں پر ہی ہوتا ہے۔وہ آئیں اور تقریریں کر جائیں۔ان کے علاوہ انصاراللہ ہیں مگر وہ ارد گرد بجا کر تبلیغ کر آتے ہیں۔اور وہ بھی ہفتہ میں ایک بات اس سے تبلیغ کی عادت پیدا نہیں ہو سکتی۔۔۔۔پس اس سکیم میں یہ بھی منتظر ہے کہ تبلیغ کادائرہ زیادہ سے زیادہ وسیع کیا جائے اور ایسے مبلغ پیدا کئے جائیں جو بغیر معاوضہ کے تبلیغ کریں " آٹھویں بات اس سکیم میں میرے مد نظر یہ ہے کہ مرکز کو ایسا محفوظ کیا جائے کہ وہ بیرونی حملوں سے زیادہ سے زیادہ محفوظ ہو جائے۔اس بات کو اچھی طرح سوچنا چاہیئے کہ ایک سپاہی اور جرنیل ہیں کتنا فرق ہے مگر یہ فرق ظاہر میں نظر نہیں آتا۔مثال کے طور پر آنکھوں کو لے لو سپاہی اور جب نبیل کی آنکھ میں کیا فرق ہے سوائے اس کے کہ سپاہی کی نظر تیز ہوگی اور جرنیل بوجہ بڑھاپے کے اس قلاد