تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 482 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 482

۴۵ ادا کرتا رہا۔یہ گویا اس امر سے عبارت تھاکہ وہ مقدر پیارا بانت جو ابنائے تارس کے مسرود کیا گیا ہے انشاء اللہ وہ اس کے پوری طرح حال رہیں گے۔ہاں وہی خزینہ ایمان، هرفان جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تم پیار سے لائے تھے۔یہ اس کے بی نظین ہیں اور قیامت تک اس نعمت ایمان کو صفحہ ارض پر توفیق از دومی قائم راسخ رکھینگے۔انشا اشد دوسرے دن نماز جمعہ کے بعد کوئے احمدیت حضرت امیر المومنین خلیفه ای انسانی کی زیر ہدایت صدر انجمن احمدیه کے دو ناظروں (خانصاحب مولوی فرزند علی صاحب ناظر بیت المال در سید زین العابدین ولی الله شاه میان ناظر ایوار) کے سپرد کر کے رسید لے لی گئی۔جو حضور کی قدرت میں چوہدری تعمیل احمد صاحب ناصر نے اسی دن بیش کی حضور نے فرمایا۔میں نے دیکھ لی ہے اپ دفتر خدام الاحمدیہ میں بطور سند رکھنی جائے۔" رسید حسب ذیل تھی :- بسم الله الرحمن الرحيم آج بروز جمعه تاریخ ۱۲ دسمبر ۱۹۶۱ با صلح مجری منشی ہم نے حضرت امیرالمومنین خلیفہ ایسی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ارشاد کے ماتحت صدر انجمن احمدیہ کے ریزولیوشن کے مطابق صدور مجلس خدام الاحمدیہ سے لائے احمدیت تین بج کر پینتیس منٹ پر دھول پایا۔دستخط - دسید زین العابدین ولی الله شاه) ناظر امور حاصه هرش ۱۳۱۸ / ۱۲ / ۲۹ دستخط : دخان صاحب فرزند علی عفی عند ناظر بیت المال هوش ۱۳۱۸ / ۱۲ / ۲۹ اد كاتب محمد اعظم حیدر آباد دیکھن میشه خلافت جوبی کی مبارک تقریب پرمجلس خدام الاحمدیہ نے ایک انعامی علم بھی تیار العام علم خدام الاحمدي ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا کی تیاری کروایا۔یہ علم ہر سال اس مجلس کو دیا جاتا ہے جس کا کام سب مجانس سے ممتاز ہوتا ہے۔۹۴۶ ار یک جن مجانس کو حضرت امیرالمومنین خلیفہ المسیح الثانی نے اپنے دست مبارک سے یہ یاد گار جھنڈا مرحمت فرمایا ان کے نام یہ ہیں :- مجلس کیرنگ اریه در مجلس گوجرانواله د ۱۹ او مجلس چک شمالی سروده ها در شور و مس دار الرحم قلاویان دست پوسٹ کیس ندام الاحمدیه سال اول و دم ۴ فروری ۱۹۳۷ بر تا فروری است ۱۹۳۰ و صفحه ام تا ۳۳ مجلس حضرت خلیفہ ایسی انسانی اور میرا کو اپنی تقریر سے قبل مجلس دارالرحیم کے زیم با امام حسین نیب کو علم انعامی عطا کرتے ہوئے رمایا کہ میں محلہ کی ای خدا اور یہ کومبارکباد دیتاہوں کہ وہ کام میں اول رہی ہے مری امید کرتا ہوں کہ اس مجلس کے نمبر ای جھنڈے کے احترام کو بر قرار رکھنے کی پوری کوشش کرینگے اور اپنی زندگیوں کو احمدیت کے مطابق بنا کر یہ ثابت کر دینگے کہ صورتی اس انعامی جھنڈے کے مستحق تھے اور انتخاب غلط نہ تھا۔" والفضل دار فروری ۱۹۳۵ و صفحه به کانم ۴ )