تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 27
۳۳ سے چھوٹا جو کام بھی انہیں مل سکے وہ کر لیں۔اخباریں اور کتابیں ہی بیچنے لگ جائیں۔ریز رو فنڈ کے لئے روپیہ جمع کرنے کا کام شروع کر دیں۔غرض کوئی شخص بیکار نہ رہے خواہ اسے مہینہ میں دو روپے کی ہی آمدنی ہوگی۔اٹھارھواں مطالبہ : " قادیان میں مکان بنانے کی کوشش کریں۔اس وقت تک خدا تعالیٰ کے فضل سے سینکڑوں لوگ مکان بنا چکے ہیں۔مگر ابھی بہت گنجائش ہے۔جوں جوں قادیان میں احمدیوں کی آبادی • بڑھے گی ہار مرکز ترقی کرے گا اور غیر عنصر کم ہوتا جائے گا۔۔۔۔ہاں یاد رکھو کہ قادیان کوخدا تعالی نے سلسلہ احمدیہ کامرکز قرار دیا ہے۔اس لئے اس کی آبادی انہی لائنوں پر چلتی چاہیے جو سلسلہ کے لئے مفید ثابت ہوں۔اس موجودہ حالت کو مد نظر رکھتے ہوئے میری تاکید ہے کہ قادیان، بھینی اور منگل کے سوا سردست اور کسی گاؤں سے آبادی کے لئے زمین نہ خریدی جائے۔ابھی ہمارے بڑھنے کے لئے بھینی اور منگل کی طرف کافی گنجائش ہے " تلے انیسواں مطالبہ : " دنیاوی سامان خواہ کس قدر کئے جائیں آخر دنیا وی سامان ہی ہیں۔اور ہماری ترقی کا انحصار ان پر نہیں بلکہ ہماری ترقی خدائی سامان کے ذریعہ ہوگی اور یہ خانہ اگر چہ سب سے اہم ہے اور گھر سے میں نے آخر میں رکھا اور وہ دعا کا خانہ ہے۔وہ لوگ جو ان مطالبات میں شریک نہ ہو سکیں۔اُن کے مطابق کام نہ کر سکیں۔وہ خاص طور پر دعا کریں کہ جو لوگ کام کر سکتے ہیں۔خدا تعالیٰ انہیں کام کرنے کی توفیق دے اور اُن کے کاموں میں برکت دے۔۔۔۔پس وہ ٹولے لنگڑے اور پانچ جو دوسروں۔کے کھلانے سے کھاتے ہیں، جو دوسروں کی امداد سے پیشاب پاخانہ کرتے ہیں اور وہ بیمار اور مریض جو چار پائیوں پر پڑے ہیں اور کہتے ہیں کہ کاش ہمیں بھی طاقت ہوتی اور ہمیں بھی صحبت ہوتی تو ہم بھی اس وقت دین کی خدمت کرتے۔ان سے میں کہتا ہوں کہ اُن کے لئے بھی خدا تعالیٰ نے دین کی خدمت کرنے کا موقعہ پیدا کر دیا ہے۔وہ اپنی دعاؤں کے ذریعہ خدا تعالے کا دروازہ کھٹکھٹائیں اور چار پائیوں پر پڑے پڑے خدا تعالے کا عرش ہلائیں تاکہ کامیابی اور فتمندی آئے۔پھر وہ جو ان پڑھ ہیں اور نہ صرف ان پڑھ ہیں بلکہ کند ذہن ہیں اور اپنی اپنی جگہ گڑھ رہے ہیں کہ کاش ہم بھی عالم ہوتے۔کاش ہمارا بھی ذہن رسا ہوتا اور ہم بھی تبلیغ دین کے لئے نکلتے۔اُن سے میں کہتا ہوں کہ اُن کا بھی خدا ہے جو اعلیٰ درجہ کی عبارت آرائیوں کو نہیں دیکھتا۔اعلیٰ تقریروں کو نہیں دیکھتا بلکہ دل کو دیکھتا ہے " الفضل" و دسمبر ۱۹۳۷ صفحه ۱۱ کالم ۳ * که ایضاً صفحه ۱۲ ۰