تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 26
۲۲ اس میں اوپلے ڈال کر اندر لے گئے۔آپ کے ساتھ اور بہت سے لوگ بھی شامل ہو گئے اور جھٹ پٹ اوپلے ڈال دیئے گئے۔اسی طرح اس مسجد کا ایک حصہ بھی حضرت خلیفہ المسیح اقول رضی اللہ عنہ نے بنوایا تھا۔ایک کام میں نے بھی اسی قسم کا کیا تھا مگر اس پر بہت عرصہ گزر گیا۔ئیں ہاتھ سے کام کرنے کی عادت ڈالنے کا جو مطالبہ کر رہا ہوں۔اس کے لئے پہلے قادیان والوں کو لیتا ہوں۔یہاں کے احمدی محلوں میں ہو اُونچے نیچے گڑھے پائے جاتے ہیں۔گلیاں صاف نہیں۔تالیاں گندی رہتی ہیں بلکہ بعض جگہ تالیاں موجود ہی نہیں ان کا انتظام کریں۔وہ جواد در سیر ہیں وہ سروے کریں۔اور جہاں جہاں گندہ پانی جمع رہتا ہے اور جو ارد گرد بسنے والے دس بیس کو بیمار کرنے کا موجب بنتا ہے اُسے نکالنے کی کوشش کریں اور ایک ایک دن مقرر کر کے سب مل کر محلوں کو درست کر لیں۔اسی طرح جب کوئی سلسلہ کا کام ہو مثلاً لنگر خانہ یا مہمان خانہ کی کوئی اصلاح مطلوب ہو تو بجائے مزدور رہنے کے خود لگیں اور اپنے ہاتھ سے کام کر کے ثواب حاصل کریں۔ایک بزرگ کے متعلق لکھا ہے کہ وہ جب قرآن پڑھتے تو تروف پر انگلی بھی پھیرتے جاتے۔کسی نے اس کی وجہ پوچھی تو کہنے لگے قرآن کے حروف آنکھ سے دیکھتا ہوں اور زبان سے پڑھتا ہوں اور انگلی کو بھی ثواب میں شریک کرنے کے لئے پھیرتا جاتا ہوں۔پس جتنے عضو بھی ثواب کے کام میں شریک ہو سکیں اتنا ہی اچھا ہے۔اور اس کے علاوہ مشقت کی عادت ہوگی۔۔۔۔یہ تحریک میں قادیان سے پہلے شروع کرنا چاہتا ہوں اور باہر گاؤں کی احمدیہ جماعتوں کو ہدایت کرتا ہوں کہ وہ اپنی مساجد کی صفائی اور پائی وغیرہ خود کیا کریں اور اس طرح ثابت کریں کہ اپنے ہاتھ سے کام کیا وہ ماں نہیں سمجھتے شغل کے طور پر لوہار اشتہار اور معمار کے کام بھی مفید ہیں۔رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ سے کام کیا کرتے تھے۔ایک دفعہ خندق کھودتے ہوئے آپ نے پتھر توڑے اور مٹی ڈھوئی صحابہ کے متعلق آتا ہے کہ اس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تو پسینہ آیا۔بعض نے برکت کے لئے اُسے پونچھ لیا۔یہ تربیت ، ثواب اور رعب کے لفظ سے بھی بہت مفید چیز ہے جو لوگ یہ دیکھیں گے کہ اُن کے بڑے بڑے بھی مٹی ڈھونا اور مشقت کے کام کرنا عار نہیں سمجھتے، ان پر خاص اثر ہو گا۔"" سترھواں مطالبہ : جو لوگ بیکار ہیں وہ بیکار نہ دیا اگر وہ اپنے وطنوں سے باہر نہیں جاتے تو چھوٹے سن و الفضل " و سه صفر ۰۱۱ 11۔