تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 370
۳۵۷ اور اسکے سایہ ملکر کام کر سکتا ہوں باقی رہا یہ عبدالحمين الصورت میں مدد دینے سے انکار کرد یکی تو پھر سی تو انجمن مرحکم سے یہاں آپا ہیں اور نہ انجمن کے لئے ہر سفر نے اختیار کار ھے اور نہ انجمن کے لئے علم پڑھ رہا ہوں شیخ صاحب موصوف مصر میں ہی تھے کہ ۱۳ مارچ شیخ مصری صاحب کی سبعیت خلافت ثانیه الا ان الاول من الان انتقال فرما گئے اور کار مارچ نہ کو خلافت ثانیہ کا قیام عمل میں آیا جس پر شیخ صاحب نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی خدمت میں مندرجہ ذیل بیعیت نامہ لکھا :- " بسم الله الرحمن الرحیم تحمدہ ونصلی لئے رسولہ الکریم و البر مع التسليم سیدی و مرشدی ! السّلام علیکم ورحمتہ اللہ وبركاته ہمارے پیارے محسن خلیفہ المسیح الاوّل کی وفاۃ کا صدمہ جو احمدی قوم کے دلوں پر ہوا وہ تو واقعی بیان سے باہر ہے خصوصاً ہم دور افتادوں کے لئے تو ہمیشہ افسوس ہی رہے گا کہ پھر زندگی میں زیارت بھی نصیب نہ ہوئی۔سوائے انا للہ وانا الیہ راجعون کے کیا کہ سکتے ہیں۔اللهم اعلیٰ مقامه واكرم مثواه والحقه بالرفيق الأعلى أمين۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو فتنہ سے محفوظ رکھے اور قوم کو اپنے محض فضل وکرم سے اپنی پناہ میں لے کر اس ابتلا سے پار اُتار دے جو کہ بعض نادانوں نے قوم کے راستے میں لاڈالا ہے۔اللہ تعالے آپ کے عہد کو مبارک عہد ثابت کرے اور انہی نصرتوں اور رحمتوں اور برکتوں کا عہد ہو۔آمین۔آپ کے دشمنوں کو ذلیل اور خوار کرے اور آپ کو کا میابی کے اگلی اوج پر پہنچائے میں اس امر کے اظہار سے رک نہیں سکتا کہ واقعی اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے اور اپنی خاص عنایت سے یہ خلعت خلافت آپ کو پہنائی ہے ورنہ دشمنوں نے تو ناخنوں تک زور لگایا تھا کہ کسی طرح یہ ٹل سجا دے۔ان کی مدت مدید کی کوششوں کو خدا نے ملیا میٹ کر دیا۔اور آخر خدائی زاده ای غائب آیا۔بھلا خالق کے آگے خلق کی کیا پیش جاتی ہے۔اللہ کریم ہمیشہ فتح اور نصرة