تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 369
۳۵۶ ہوں۔باقی رہا یہ کہ انہیں اس صورت میں مدد دینے سے انکار کر دے گی، تو پھر میں تو انجمن کے حکم سے یہاں آیا نہیں اور نہ انجمن کے لئے یہ سفر میں نے اختیار کیا ہے اور نہ انہین کے لئے علم پڑھ رہا ہوں۔71۔شیخ عبدالرحمن صاحب مصری کے مکتوب کا چیر پہ بلکہ جطرف خوت خلیفة الح را آپ مجھے لگا ئینگے میں تو وہی کام کرونگا نے اپنا معاملہ اپنی مرضی پر نہیں دو کھا ہوا دین اسلام کی خدمت کرنا میری عرض سے اس عرضی پر مناسب کام کو پر کرنا ہے آپنی عقل اور فکر پر نہیں چھوڑا ہوا بلکہ آئے سپر ھے کیونکہ میں کامل یقین پر پہنچا ہوا ہوں جس کام پر آپ لگا کہیئے وہ دینی خدمت سے دین کا جوشی اور غم جو آپکو ہے اور کسی کو نہیں اور نہیں میں ان کے کی صور کسی کو اسکا اصل پاتا ہوں اسلئے میں نے جو آپکے ساتھ مل کر کام کرنا ہے اور جہانتک میری مقدرت میں ہے انشاء اللہ تعالٰی آپکا کا نہ بتاؤنگا مدرسہ احمدیہ میں اور اسے کام ہو شروع کیا تھا کہ روسیہ کماؤں بلکہ ایک دینی خدمت تھی دی بجو اور یہ دنئی خدمت بھی تب تک ہی دہی خدمت ه جنیک که آینده وجوده با وجود اس مدرسہ میں ھے کیونکہ یہ تو ظاہر ہے کہ اگر آپکا تعلق اس مدرسہ سے نہ ہو تو کیا انجمن اس ادویہ کی طرف اسی طرح کوم گی جیسی کہ اب کرتی ہے انجمن کو تو اس دل کی ضرورت ہی نہیں محسوس ہوتی ہو تو آپکی وجہ سے قائم ہے اور اگر آپ کی وجہ سے اپنا تعلق ابھی سے ہے ہیں اور اسی غرض کو کسی اور ذریعہ سے پورا کرنا چاہیں تو پھر د میں اس حالت میں جبکہ پانچ سال کے لئے آپنے آپکو قید سے ڈال چکا ہونگے آنے آپ کو آپکی خدمت میں پیش کر سته سوگ