تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 299
۲۸۶ کیا۔شرفاء نے احراری مناظر کے لاجواب ہونے اور بد اخلاق ہونے کا برملا اقرار کیا۔اور ایک دوست: اخل سلسلہ احمدیہ بھی ہوئے ہے -4- مباحثہ کو ہاٹ۔مولا نا چراغ دین صاحب مبلغ سلسلہ احمدیہ نے یہ مٹی ۱۹۳۵ م کو اسٹر نظام الدین صاحب کو ہائی کے ساتھ مسئلہ وفات و حیات مسیح پر مباحثہ کیا جس کا پبلک پراچھا اثر ہوا ایسے ے مباحثہ لبستان افغاناں۔چوہدری محمد شریف صاحب فاضل نے ۲۶ مئی ۱۹۳۵ء کو باغ موضع مصطفی پور میں مولوی محمد شفیع صاحب کھتری سے صداقت مسیح موعود و پر مناظرہ کیا۔سکھ اور ہندو دوستوں اور منصف مزاج مسلمانوں نے احمد می مناظر کے دلائل کی داد دی۔سلے مباحة سمرال ضلع لصيانه - نادر اگست کو احمدی عالم مولوی غلام مصطفے صحبت فاضل نے مولوی عبد القادر صاحب رو پڑی سے تینوں اختلافی مسائل پر مناظرہ کیا۔سنجید طبقہ نے بر ملا تسلیم کیا کہ احمدی مولوی صاحب ایک جید عالم ہیں۔اور روپڑی صاحب تو کوئی نئی اور ٹھوس بات پیش ہی نہیں کر سکے اور محض تضیع اوقات کرتے رہے ہیں ہے -- مباحثه اجنالہ (ضلع سرگودھا، یہاں ۷ ار اگست ۱۹۳۵ء کو احرار کی حمایت میں پادری میلا رام صاحب نے "حیات مسیح پر لیکچر دیا۔اور بعد میں مولانا قاضی محمد نذیر صاحب سے مناظرہ کیا جس میں عیسائیوں کو سخت ناکامی ہوئی۔یہ صورت دیکھ کر احرار نے احمدیوں پر حملہ کردیاہے -9- مباحثہ لائل پور اجنالہ میں مباحثہ کے دو سے دن ( دار اگست کو) پادری میلا رام لائل پور آگئے اور انہوں نے احراریوں کے زیر انتظام منعقدہ جلسہ میں الوہیت مسیح، کفارہ ، اور تثلیث کے موضوع پر تقریریں کیں۔اور حضرت مسیح موعود پر اعتراضات کئے۔جن کی حقیقت مولانا قاضی محمد نذیر صاحب نے واضح کی۔اگلے دن پھر پادری صاحب ک لیکچر ہوا۔جس کا مسکت مدل جواب جناب قاضی صاحب نے دیا۔مناظرہ ختم ہوا۔تو احترالیوں نے دھکے دینے اور پتھر پھینکنے شروع کر دئے۔24 ا الفضل و در اپریل ۹۳۵ ه و صفحه و کالم : الفضل اور مئی ۳ شراء صفحہ ، کالم ا الفضل رجون رجون ۱۹۳۵ صفحه کالم ۳ : ۲ الفضل ، ار ا گست شراء صفحہ و کالم ۲ في الفضل ۱۲ ستمبر ۱۳اء صفحہ کالم : به الفضل ۲۳ ار ستمبر ۱۹۳۵ء صفحہ ۱۰ کالم ۳۰۲ ه