تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 300
۲۸۷ ۱۰- مباحثہ بیگو سرائے ضلع میں گھیر۔اگست راء میں مولوی نصیر الدین صاحب ہے وکیل پریذیڈنٹ انجمن احمدیہ بیگو سرائے کا مولوی نظام الدین صاحب مبلغ سلسله امارت شرعیه و لواری (بہار) سے مسئلہ حیات و وفات مسیح پر ایک مناظرہ ہوا۔مولوی نظام الدین صاحب احمدی عالم کی پیش کردہ دلیل وفات مسیح کا رڈ کرنے سے بالکل قاصر رہے۔جس پر سامعین میں سے مولوی عبد العزیز صاحب مدرس مدرسه در بهنگه، مولوی کیٹی صاحب مدرس مدرسہ دار السلام اور مولوی محمد سافق صاحب کے ریس لکھینہ کھڑے ہو گئے اور انہوں نے کہا کہ ہمارے مناظر صہ اس نے کافی تردید نہیں کی۔اسلئے ہم لوگوں کو جواب دینے کی اجازت کیجائے۔لیکن غیر احمدی صدر مولوی منظور احسن صاحب نے شرائط مباحثہ کی بناء پر صاف کہہ دیا کہ اس جلسہ میں آپ لوگوں کی طرف سے صرف مولوی نظام الدین صاحت بین ناظر کو گفتگو کرنے کا حق ہے۔اس پر جلسہ میں برہمی پیدا ہوگئی اور مباحثہ ختم کر دیا گیا۔ہے ۱۱- مباحثہ مجیٹھے (ضلع امرتسر ) ۲۸ ستمبر یاء کو موضوع مجیٹھ میں آریہ سماج سے مناظرہ ہوا۔مسلمانوں کی طرف سے جہالہ محمد عمر صاح فاضل اور آریوں کی طرف سے پنڈت بدھ دیو جی میر پوری پیش ہوئے۔موضوع یہ تھا کہ کیا یدالنشوری گیان ہے ؟ مبلغ اسلام جب سنسکرت زبان میں وید پڑھتا تو لوگ حیرت و استعجاب سے ہمہ تن گوش ہو کر سنتے اور سرد منتے تھے۔بعض کہتے قادیان میں ہر ایک علم اور زبان کی تعلیم دی جاتی ہے۔مرزا صاحب نے علوم وفنون کے دریا بہا دیئے ہیں۔مبلغ اسلام کی قابلیت۔متانت اور سنجیدگی کی سب نے تعریف کی۔بعض غیر احمدی معززین نے یہاں تک کہا عرصہ سے آریوں نے ہمیں تنگ کر رکھا تھا۔ہمارے مولوی تو آپس کی تکفیر بازی میں مشغول رہتے تھے۔آج خدا نے آپ کو بھیج کر ہماری امداد کی ہے اور اسلام کو فتح عظیم بخشی ہے۔کے ۱۲- مباحنه حمید - چار اکتوبر سوار کو مولوی غلام مصطفی صاحب فاضل کا سائیں لال حسین صاحب اختر سے مسئلہ حیات و وفات مسیح اور صداقت حضرت مسیح موعود کے موضوع پر مناظرہ ہوا۔جمعہ کے بعض غیر مسلم اور مسلم معتز ترین مثلا لالہ سوہن لال صاحب اور لالہ بنسی لعل صاحب ، مرزا رحیم بیگ صاحب اور مسٹر غلام محی الدین صاحب نے تحریری طور پر اعتراف کیا کہ احمدی مناظر اور جولائی 1924ء کو آپک انتقال ہوا۔آپ کے فرزند حمید نور عالم صاحب ایم اے کلکتہ نے آپ کے مختصر حالات زندگی اخبار "بدر" (قادیان) بایت ۲۱ جولائی ۱۹۶۷ء میں شائع کر دئے ہیں : ه الفضل ۱۵ ستمبر ۱۹۳۵ رو صفحه ۵ کالم ۱ - ۵۳ الفضل مرا کتوبر ۱۹۳۵ء صفحہ و کالم سو :