تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 298
۲۸۵ ۱۹۳۵ ز ہ میں جماعت احمدیہ کے مبلغین کو متعدد مقامات اندرون ملک کے مشہور مناظرے رامات سلمان اورغیرمسلموں سے مناظرے کرنا غیر پڑے۔جن میں سے بعض کا تذکرہ کیا جاتا ہے :۔۔۱- مباحثہ تارو علاقہ بنگال- یہاں اور فروری شوراء کو مولانا محمد سلیم صاحب فاضل اور مولانا ظل الرحمن صاحب بنگالی نے غیر احمدی علماء سے مباحثہ کیا جس کے بعد تیرہ افراد احمدی ہو گئے۔اے -۲- مباحثہ دہلی - ۹ر مارچ شہ کو انجمن سیف الاسلام دہلی کے سالانہ جلسہ پر مولانا جلال الدین صاحب شمش نہ کا مولوی سعد اللہ صاحب سے مناظرہ ہوا۔موضوع بحث یہ تھا کہ اہل سنت و الجماعت کے موجودہ عقائد کی رو سے حضرت نبی کریم صلی الہ علیہ و آلہ وسلم کی فضیلت ثابت ہوتی ہے یا حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کی یہ مناظرہ اس درجہ کامیاب تھا کہ دوسرے دن سید عطاء اللہ شاہ صاب بخاری کو اپنی تقریر میں کہنا پڑا کہ آئیندہ قادیانیوں کے ساتھ ہرگز مناظر سے نہ کئے جائیں لیے مباحثہ تصویور (متصل ٹانڈہ ضلع ہوشیار پور ) اس مقام پر چوہدری محمد شریف صاحب فاضل حال مبلغ گیمبیا نے مولوی نور حسن صاحب گرجا گھی سے تینوں ! اختلافی مسائل پر مناظرہ کیا۔سامعین نے دلائل کی رو سے احمدیت کی فتح تسلیم کی سہلے -۴- مباحثہ مشرقی بنگال - ۱۸ ۱۹ مارچ ا یہ کہ مشرقی بنگال میں مولانامحم سلیم صاحب فاضل اور برہمن بڑیہ کے مدرسہ عربیہ کے صدر المدرسین مولوی تاج الاسلام کے مابین قریباً چودہ گھنٹے تک عربی زبان میں مناظرہ ہوا۔غیر احمدی علم چونکہ چند جلے کہہ کر بیٹھ جاتے تھے۔اس لئے اکثر وقت احمدی مناظر ہی کو بولنا پڑا۔دوران مباحثہ مولوی تاج الاسلام صاحب نے کہا کہ مجھے کوئی جواب نہیں دینے گئے۔مگر غیر احمدی صدر صاحبنے اقرار کیا کہ جو اب تو آگیا ہے۔ہاں آپ کی سمجھ میں نہ آئے تو یہ اور بات ہے کیے -۵- مباحثہ نواں شہر دو آبد - انجمن اسلامید نواں شہر و گریام کا سالانہ جلسہ پیار اپریل سیارو کو منعقد ہوا جس میں غیر احمدکی علماء نے سخت بد زبانی کی۔جلسہ کے اختتام پر جماعت احمدیہ کی طرف چوہدری محمد شریف صاحب فاضل اور احرار کی طرف سے مولوی محمد علی صاحب جالندھری نے مناظرہ باب الفضل ۲۱ فروری ۱۹۳۵ ایر صفحه ۲ کالم ۲۳ سال الی ۱۹ تاریخ ۱۹۳۵ ۶ صفحه ۱۰ ܀ الفضل اور را پریل ۳۵ راء صفحہ کالم : ۵۳ المحکم ۲۱ مارچ ۱۹۳۵ء صفر ۲ : ۱