تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 297
۲۸۴ " جماعت احمدیہ سرگودھا کے زیر انتظام سوار اکتوبر کی شام سرگودھا میں مذہبی کا ایسا کیا کیا یا اس کا استاد ہوا جس میں ہرطبقہ کے لوگ شامل ہوئے۔اور احمدی نمائندہ کے علاوہ شیعہ سناتن دھرم، سکھ، آریہ سماج کے مقررین نے کامل انسان نے کیلئے میرا مذہب کی راہ نمائی کرتا ہے کے موضوع پر تقریریں کیں۔سامعین کی تعداد دو ہزار کے قریب ہوگی۔کانفرنس توقع سے بڑھ کر کامیاب ہوئی۔اے ۲۸ اکتوبر ۱۹۳۵ء کو آبد یہ سماج کی طرف سے فرید کوٹ میں بھی ایک رید کوٹ میں ذمی کافر ا ا ا ا ا مذہبی کا نفرنس منعقد ہوئی جس میں مختلف مذاہدہ کے نمائندوں نے مجھے میرا مذہب کیوں پیارا ہے" کے مضمون پر لیکھر دئے۔کانفرنس میں مولانا جلال الدین صاحب میں نے جماعت احمدیہ کے نمائندہ کی حیثیت سے اسلام کی خوبیاں بیان کیں۔اگرچہ وقت بہت تھوڑا تھا مگر حضرت مولوی صاحب نے نہایت عمدگی سے اپنے موضوع پر روشنی ڈالی۔تمام مسلمان دوران تقریر بار بار سبحان اللہ کہتے رہے اور تقریر کے خاتمہ پر نعرہ تکبیر بلند کیا۔لے ۱۹۳۵ء کی نئی مطبوعت اس سال مندرجہ ذیل کتب اسلام محمدی کی طرف سے شائع ہوئیں اور جن سے احمد می لٹریچر میں قابل قدر اضافہ ہوا : ا۔اسلام اور غلامی SLAYERY ۳- مرزا بشیر احمد صاحب) SLAM AND از مولفہ حضرت صاحبزاده حدیث HADETH THE HADETH د از حضرت مولانا عبد الرحیم صاحب تو ایم۔امام مسجد ندان) ابنائے فارس - ( تالین صوفی عبد القدیر صاحب) مفتاح القرآن ( شائع کردہ کتاب گھر قادیان) - تحفة النصارى ہ - حضرت مسیح موعود کے انعامی چیلنج (مرتبہ مولانا عبد الرحمن صاحب انور ) --بستان احمد حضرت بی موعود علیه السلام او منفور کے خاندان کی پر معارف نظاموں کا دلکش مجموع) -۸- عقائد احمدیة و مرتبه سید لبشارت احمد صاحب وکیل ہائی کورٹ حیدر آباد دکن) - احمدیت کا پیغام لیکر چو ہد کی مد ظلہ اللہ خان صاحب) افض isre به سنده صفحه کاله ܀ الفضل در نوامبر ۱۹۳۵ زره صفحه به کانم ۴ از