تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 261 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 261

احظہ ہوں کہ ایک طرف مسٹر مظہر علی صاحب اظہر نے یہ اعلان کیا کہ سب شرایط منظور ہیں مگر دور کی طرف از خود تاریخ مباهله معین کر دی۔ای امداد کی یہ ناقابل فہم روش و کلینکر حضرت خلیفہ ایک اشانی لینت ربیع الثانی کا لفی بیان نے سو اکتو بر شکار کو ایک مفلٹ لکھا جس میں ۳۰ مسلمانان ہند کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ "یکی امید کرتا ہوں کہ سب بھی پسند احباب اب معاملہ کو سمجھ گئے ہوں گے اور وہ احرار پر زور دیں گے کہ مباہلہ کی تفصیلی شرائط جماعت احمدیہ کے نمائندوں سے طے کر کے تاریخ کی تعین کریں اور اس طرح خالی اخباری گھوڑے سے روڈہا کہ اس نہایت اہم امر کو ہنسی مذاق میں نہ لگائیں۔اے یہی نہیں حضور نے اسی پمفلٹ میں احرار کے جواب کا انتظار کئے بغیر سندرجہ ذیل علیہ اعلان شائع فرمانه یا کہ: ر میں اس خدائے قہار وجبار - مالک دمختار معتر در ذیل تھی اور حمیت کی قسم کھا کر کہتا ہوں جینی مجھے پیدا کیا ہے اور جس سے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میرا اور سب جماعت احمدیہ بالیقیت جماعت یہ عقیدہ ہے اور اگر کوئی دوسرا شخص اس کے خلاف کہتا ہے تو وہ مردود ہے ہم میں سے نہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم افضل الرسل اور سید ولد آدم تھے۔یہی تعلیم نہیں بانئی سلسلہ احمدیہ علیہ الصلواۃ والسلام نے دلی ہے اور اسی پر ہم قائم ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت اپنے آپ کو جانتے ہیں اور سب عزتوں سے زیادہ اس عزت کو سمجھتے ہیں۔بیشک ہم بانی سلسلہ احمدیہ کو خدا کا نامور اور مرسل اور دنیا کے لئے ہادی سمجھتے ہیں۔لیکن ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ آپ کو جو کچھ علادہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے طفیل۔اور آپ کی شاگردی سے ملا تھا۔اور آپ کی بعثت کا مقصد صرف اسلام کی اشاعت اور قرآن کریم کی عظمت کا قیام اور رسول کریم صلی الہ علیہ وسلم کے فیضان کو جاری کرنا تھا اور جیسا کہ آپ نے خود فرمایا ہے۔این چشمه ر دال که مخلق من داد هم یک قطره نه بحر کمال محید است و این آتشم زه آتش میر محمدی است و این آب من زرآب زلال محمد است آپ جونور دنیا میں پھیلاتے تھے وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نور کا ایک شعلہ تھا اور بس۔۱۹۲۵ ه الفضل دار نومبر ۳۵ مت :