تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 260 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 260

۲۴۷ میں ان ہماری مجوزہ شرائط کا ذکر ہے وہ آپ کی مزید واقفیت کے لئے آپ کو بھجوائے جارہے ہیں۔انہیں ملاحظہ فرما کہ اپنی رائے سے ہمارے مقرر کردہ نمائندگان کو مطلع فرمائیں۔شرائط و تاریخ و مقام مباہلہ وغیرہ کا تعین ہمیشہ فریقین کی رضا مندی سے ہوتا ہے۔پس آپ اگر ہماری پیش کردہ شرائط کو بھی مانتے ہیں تو بھی اور اگر کسی میں ترمیم کے خواہشمند ہیں تو پھر بھی جماعت احمدیہ کے مقرر کردہ نمائندگان سے گفت و شنید کرکے فیصلہ کا صحیح طریق اختیار فرمائیں محض اپنی طرف سے ایک تاریخ مقرہ کر کے تار دے دنیا کوئی نتیجہ نہیں پیدا کر سکتا " اے اب بظا ہر خیال کیا جاتا تھا کہ اس مکتوں کے بعد احرار کوئی اعتراض نہیں اٹھائیں گے لیکن ہوا یہ کہ اگرچہ اخبار مجاہد" میں مجمل طور پہ یہ ضرور شائع کر دیا گیا کہ ہمیں سب شرطیں منظور ہیں اور ہم ضرور مباہلہ ہیں گے۔لیکن اس گول مولی اعلان کے بادہ خود مجلس احرار نے اب بھی باقاعدہ تحریر کی جواب سے بالکل پہلو تہی اختیار کی جسے مباہلہ جیسے انتہائی ذمہ داری کے معاملہ میں کوئی سنجیدہ کوشش کی بجائے محض ایک مذاق یا استہزاء کا نام دنیا زیادہ مناسب ہو گا خصوصا ا سلئے کہ اس اعلان سے حضرت خلیفہ مسیح الثانی کی پیش فرمودہ ہر اہم شرط بالکل مہم مشکوک اور مشتبہ ہو کے رہ گئی مثلاً اقول:۔اس اخباری اعلان سے اس پر کوئی روشنی نہیں پھرتی تھی کہ جماعت احمدیہ پانچ سو افراد تیار کرے یا ہزارہ نیز احرار کے مباہلین کی تعداد کتنی ہو گی ؟ دوم :۔اس مجمل اعلان میں اس بات کی بھی کوئی وضاحت نہیں تھی کہ مقام مباہلہ کو فنا ہو گا؟ لاہور ، گورداسپور یا قادیان - سوم :۔مباہلہ کے وقت کا بھی کچھ پتہ نہیں چلتا۔چہارم :- ایک اہم بات یہ تھی کہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے شرائط مباہلہ میں یہ درج تھا کہ طرفین کے نمائندے جب ضروری امور کا تصفیہ کر لیں گے تو تاریخ مباہلہ مقرہ کی جائے گی حجر اس تصفیہ کے پنڑہ دن بعد کی ہونی چاہیئے۔اسکی دو ہی معنے بنتے تھے یا یہ کہ تاریخ مباہلہ خود حضرت خلیفہ انسیس مقرر کریں گے بل طرفین کی منظوری سے اس کا تعین ہوگا۔لیکن احرار کی ستم ظریفی ه - الفضل ، راکتو بر اصل کالم ۲۳ : ے۔مولوی شاء اللہ صاحب امرتسری نے لکھا۔کچھ شک نہیں کر سیاہ ہیں چونکہ عاجزی کیسا تھا اس فیصلہ طلب کیا ماتا ہے اسلئے کسی فریق کو مبادی میں الجھنا مناسب نہیں ہوتا اور نہایت صبر وسکون کے ساتھ محض دعا کی جاتی ہے کہ دا الحدیث نومبر له (ص)