تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 220 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 220

مجمود " رکھا۔ان سے مولوی صاحب کو کافی مدد حاصل ہوئی۔مگر چونکہ جنگ کی وجہ سے ملک کی اقتصاد کیا حالت پر اثر پڑ رہا تھا۔یہ کام زیادہ دیر تک جاری نہ رہ سکا یہ کہو اور ہے جو مولوی صاحبیت کے لئے مالی لحاظ سے بہت کٹھن تھے۔اس موصہ میں جہاں ملک میں اشیاء خوردنوش کی کمی واقع ہوگئی تھی سیمولوی صاحب کو بھی کافی حد تک ان تکالیف میں سے گزرنا پڑا۔مگر آپ نے نہایت صیر اور تحمل سے یہ عرصہ گزارا۔بلکہ تبلیغی در تنظیم کاموں میں زیادہ وقت دنیا شروع کر دیا۔۔19 ء میں مولوی صاحب کی حالت تعدا تعالیٰ کے فضل سے پھر بہتر ہونی شروع ہوگئی۔ہم لوگ نظر بندی کی حالت میں ان کے حالات سے اتنے آگاہ نہیں تھے مگر خدا تعالیٰ کی غیبی امداد سے انہوں نے تمام احمدی مبنی قیدیوں کی مدد کیلئے مختلف کیمپوں میں تقسیم کرنے کیلئے ۲۰۰۰ ہزار ڈالر کی رقم روانہ فرمائی۔اس وقت واقعی ہم لوگوں کو یہ کی بڑی ضرورت تھی کہ وہ روپیہ ہم کو پہنچنے نہ پایا تھا۔اور ہم اس کے خیال میں بھی اپنی مشکلات کا حل سوچ رہے تھے کہ صلح ہوگئی۔اور وہ کہ تم مولوی صاحب کو واپس لوٹا گیئں۔جدا ہم اللہ احسن الجزاء في الدارين خبيراً ب جناب مولوی صاحب نے اس عرصہ میں اپنی تبلیغ جاری رکھی اور جماعت کی تنظیم کا کام بھی کرتے رہے۔سینکڑوں طلائی اس وقت احدیت کی آغوش میں آچکے ہیں۔آپ کی انتھک کوششیں احمدیت کا نام حض خدا تعالیٰ کے فضل سے اور حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزہ کی دعاؤں کے طفیل پھیلا رہی ہیں۔جناب مولوی صاحب کو ایک عرصہ گھر سے بھدا ہوئے ہو گیا ہے مگر چلتے وقت جب ہم نے اُن سے کہا کہ مولوی صاحب آپ بھی ہمارے ساتھ چلیں۔تو آپ نے فرمایا۔" حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی اجازت کے بغیر ایک قدم بھی یہاں سے ہلانا اپنے لئے معصیت سمجھتا ہوں۔آپ نے احمدی دوستوں کی واپسی پر انہیں اتنابھی نہ کہا کہ میرا لای پیغام میرے گھروالوں کو پہنچا دیا۔بلکہ کہا تو یہ کہا کہ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کو میرا سلام دنیا اور یہاں کی میری تبلیغی مساعی کے لئے دعا کی درخواست کرنا نه دوسری شہادت : دوسری شہادت محمد یونس صاحب فاروق کی ہے جو اور بجنوری تو کو کرم مولوی غلام حسین صاحب ایمانہ کے ذریعہ سے احمدیت سے مشرف ہوئے اور تقریبا پانچ ماہ سنگا پور میں رہنے کے بعد واپس ہندوستان آئے اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے نام ایک مفصل مکتوب میں لکھا کہ: ه الفضل 9 وكمبر ۱۲ء مث ۲ جلد نمبر ۳۳ - الفضل نمبر ۲۹