تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 127
114 تاسب جماعتیں ایک مقررہ نظام کے مطابق چلیں حسب ضرورت قانونی مشورہ دینا، مجلس کے تمام۔کاموں کو صحیح قانونی طور پر چلانے کی ذمہ داری، قواعد اور قوانین کے الفاظ کی درستی۔اس وکالت کا کام صدر انجمن کے اشتراک سے چوہدری غلام مرتضی صاحب اور چوہدری بہاؤ الحق صاحب کے سیر ہو گا۔کو چوہدری غلام مرتضی صاحب ابھی باہر ہیں مگر چونکہ یہاں آتے رہتے ہیں انہیں ابھی سے اس وکالت پر مقالہ کی کے مقرر مجلس میں شامل کیا جائے۔اس لئے گویا دو وکیل ہوں گے (1) پوری بہار الحق صاب (۲) چوہدری غلام مرتضی صاحب۔وکالت تبشیر اس وکالت کے سپرد بیرونی مشقوں کا کام ہوگا۔ان کے لئے کام کی سکیم، ان کے اداروں کی تنظیم کے قواعد بنانا اور ان کا تبادلہ اور کام پر لگوانا، لٹریچر مہیا کرنا ، لائیبریریاں مہیا کرتا، ان کے کام کی نگرانی کام کی وسعت کی سکیمیں بنانا ، نئے مشتوں کی سکیم ، بیرونی ملکوں میں مساجد کی تعمیر، سکولوں کی تعمیر اور اجواء ، سردست اس کے دودوکار ہوں گے یعنی ایک مولوی عبد المغنی خانصا اور ایک دوسرا۔اصل میں اس کا ایک وکیل اور چار نائب وکیل ہوں گے جن کے سپرد (1) پاکستان کے مبلغوں کا کام (۳) افریقی اور عالم اسلامی کے مشن (۳) یورپ اور امریکہ کے مشن (۴) ایشیائی ممالک کے مشن کے کام ہوں گے۔وکیل تبشیر نگران اعلیٰ ہوگا۔اس محکمہ کے سپرد خط و کتابت کے ذریعہ تبلیغ کا کام کروانا اور لڑکچر کی مناسب تقسیم سے تبلیغ کا کام بھی ہو گا جو ہر علاقہ کے نائب کے سپرد اس کے علاقہ کے لئے ہو گا۔وکالت اشاعت۔اس کا کام رسالوں اخباروں کی نگرانی ، پرو گرام کے ماتحت شائع کرنا ، لٹریچر تیار کروانا، مہیا کرنا ، اس کی ضرورت اور اُسے آمد کا ذریعہ بنانا۔اُسے ایک مصنفین کا عملہ ملے گا جو کام کی نوعیت کے لحاظ سے بدلتا بھی رہے گا اور تمام عملہ وکالت اس کام کے لئے اس کے ماتحت اس طرح ہوگا کہ وہ ہر ایک سے کچھ نہ کچھ تصنیف کا کام ہے۔تمام وکالتوں کو دو ماہ کے اندر اندر اپنا اگلے سال کا پروگرام تیار کر لینا چاہیئے اور پھر اس سے اگلے تین ماہ میں اگلے تین سال کا پروگرام اور پھر سہ ماہی چارٹ بنا کر اپنے اپنے کمروں میں لگا لینا چاہیئے اور ہر سہ ماہ کے بعد رپورٹ کرنی چاہیے کہ کیا انہوں نے اپنا پروگرام تیار کرلیا ہے۔ان امور کو تجلس وکالت ریزولیوشن کے ذریعہ سے پاس کرے اور یہ ریزولیوشن بھی کرے کہ آئیندہ :